ملی بھگت سے چوزے کی قیمت میں 346فیصد تک اضافہ کیا گیا جس سے چکن مہنگا ہوا، مسابقتی کمیشن
اسلام آباد(آئی این پی )کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان نے چوزوں کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ اور مصنوعی اضافے پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8بڑی پولٹری ہیچریوں کو کارٹل بنانے پر 15کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔کمپٹیشن کمیشن کے مطابق ڈے اولڈ چوزے کی قیمت میں 346فیصد تک اضافہ کیا گیا جس کے باعث براہ راست چکن کی قیمت میں اضافہ ہوا۔تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ ہیچریز واٹس ایپ گروپ کے ذریعے روزانہ قیمتیں طے کرتی تھیں۔ چک ریٹ انائونسمنٹ نامی واٹس ایپ گروپ میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں فکس کی جاتیں۔کمیشن کے مطابق بگ برڈ کے مارکیٹنگ مینجر ڈاکٹر شاہد نئی قیمتیں جاری کرتے رہے۔ قیمتیں 198مرتبہ واٹس ایپ اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے شیئر کی گئیں، جن میں 108بار ٹیکسٹ میسج اور 87مرتبہ واٹس ایپ کا استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پولٹری ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیدار بھی قیمتوں کی ملی بھگت میں شامل رہے، جب کہ کارٹل نے پنجاب، ملتان اور کراچی میں یومیہ ریٹس مقرر کیے۔ چوزے کی قیمت 17.92روپے سے بڑھ کر 79.92روپے تک جا پہنچی۔کمپٹیشن کمیشن کے چیئرمین نے ٹریڈ ایسوسی ایشنز کو متنبہ کیا کہ وہ قیمتیں فکس کرنے سے باز رہیں۔ ڈاکٹر کبیر سدھو نے واضح کیا کہ تجارتی تنظیموں کا مقصد صرف ممران کی فلاح اور شعبے کی ترقی ہونا چاہیے، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔