ڈچ پولیس کی حاملہ خاتون سے مبینہ ناروا سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر گئی

ڈچ پولیس کی حاملہ خاتون سے مبینہ ناروا سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر گئی

نیدرلینڈز کے شہر زائسٹ میں ایک پناہ گزین مرکز کے اندر 19 مئی کو پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل شدید ہو گیا ہے، اور اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
واقعہ کا پس منظر:

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ایک حاملہ خاتون کو بازو سے کھینچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گرجاتی ہے۔اس کے بعد ایک شخص، جسے خاتون کا شوہر بتایا جا رہا ہے، پولیس اہلکار سے الجھتے ہوئے بھی دکھائی دیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پولیس کو ایک ہنگامے کی شکایت پر طلب کیا گیا تھا، اور میاں بیوی پولیس سے گفتگو کر رہے تھے۔خاتون کے شوہر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے غزہ میں اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی ہلاکت کی خبر سننے کے بعد غصے میں آ کر ایک ٹیلی ویژن توڑ دیا تھا۔

خاتون کا موقف:

خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ احترام سے بات کی تھی اور صرف ان کے ساتھ پولیس حراست تک جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔لیکن اسی دوران، انہیں پکڑ کر زمین پر گرایا گیا۔اس واقعے اور ذہنی دباؤ کے باعث خاتون کو قبل از وقت دردِ زہ شروع ہو گئی، اور بعد میں انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا۔خوش قسمتی سے، ماں اور نومولود بچی دونوں محفوظ ہیں اور دونوں کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔

پولیس کی جانب سے ردعمل اور تحقیقات:

اس واقعے کے بعد، ڈچ پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کے تمام حقائق اور حالات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس میں پولیس کی جانب سے استعمال کی گئی طاقت کا بھی معائنہ شامل ہوگا۔پولیس حکام نے بتایا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعے کے دوران کیا ہوا اور کس حالات میں طاقت استعمال کی گئی۔تاہم، اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی یا نہیں۔

عوامی اور انسانی حقوق کی تنقید:

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیر بحث آ رہا ہے۔انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر پولیس کے رویے اور طاقت کے استعمال کے طریقہ کار پر۔