لاہور: کاہنہ میں گھر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد زیر علاج خاتون ٹیچر کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے حادثے سے متعلق ابتدائی تاثر کی تردید کی ہے۔
زخمی خاتون ٹیچر نے اپنے بیان میں کہا کہ بارش کے باعث گھر کی چھت سے پانی ٹپکتا تھا، جس کی وجہ سے اس پر ٹائلیں لگوائی گئی تھیں، تاہم انہیں ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ حادثے کے وقت چھت پر کسی قسم کا مرمتی یا تعمیراتی کام نہیں ہو رہا تھا، اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ ان کے مطابق چھت پر پہلے ہی ٹائلیں لگائی جا چکی تھیں، جبکہ مالی مشکلات کے باعث وہ نیا لینٹر نہیں ڈالوا سکے تھے۔خاتون ٹیچر نے بتایا کہ وہ معاشی حالات کی وجہ سے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر گھر کے قریب پھلوں کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حادثے کے وقت چھت پر کوئی کام جاری ہوتا تو وہ بچوں کو ہرگز ٹیوشن نہ پڑھاتیں بلکہ چھٹی دے دیتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہیں، جہاں مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ حادثے والے روز تقریباً 20 سے 22 بچے موجود تھے۔خاتون ٹیچر نے مزید بتایا کہ ان کی بیٹی بھی اس حادثے میں زخمی ہوئی تھی، تاہم اب اس کی حالت بہتر ہے اور اسے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، لیکن وہ خود زیر علاج ہونے کے باعث ابھی تک اس سے نہیں مل سکیں۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے تمام بچے ان کے اپنے بچوں کی طرح تھے اور اس سانحے نے انہیں شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔