پنجاب میں کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو مالی خودمختاری، آڑھتی کلچر کے خاتمے کا دعویٰ: مریم نواز

پنجاب میں کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو مالی خودمختاری، آڑھتی کلچر کے خاتمے کا دعویٰ: مریم نواز

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں متعارف کرایا گیا کسان کارڈ پروگرام پنجاب کے کاشتکاروں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے ذریعے کسان اب آڑھتیوں کے قرضوں سے بتدریج نجات حاصل کر رہے ہیں۔

اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ پنجاب کے کسان کو مالی خودمختاری، آسان زرعی قرضوں اور جدید سہولیات تک براہِ راست رسائی دی جائے تاکہ وہ بغیر کسی درمیانی فرد کے اپنی فصل کی کاشت اور اخراجات پورے کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں اب تک 832,000 سے زائد کسانوں کو کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان کارڈز کے ذریعے کاشتکار مجموعی طور پر 2 ارب 54 کروڑ روپے کے زرعی قرضے استعمال کر چکے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ گندم کے سیزن کے دوران کسانوں نے کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی زرعی مداخل (کھاد، بیج اور دیگر ضروری سامان) خریدی، جو حکومتی پروگرام پر کسانوں کے اعتماد کا اظہار ہے۔ان کے مطابق 538,000 کاشتکاروں سے 67 ارب روپے قابلِ وصول ہیں، تاہم اس کے باوجود ریکوری کی شرح 86 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کسانوں نے 57 ارب روپے کی اقساط بروقت ادا کر کے ادائیگی کے نظام میں مثبت مثال قائم کی ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ خریف سیزن کے لیے اب تک 90 ارب روپے کی زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ 300,000 سے زائد کاشتکار 30 ارب روپے کے زرعی وسائل اس اسکیم کے تحت حاصل کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کا مقصد زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کسان کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے، تاکہ وہ کسی مالی دباؤ کے بغیر اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکے۔