واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی نوعیت کے مذاکرات بدستور جاری ہیں اور یہ بات چیت پہلے سے جاری سفارتی عمل کا حصہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح پر رابطے برقرار ہیں، جن کا مقصد پہلے سے طے شدہ امور پر پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے دوحہ میں ممکنہ مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک اس نوعیت کے بیانات ایران کی مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جسے انہوں نے "فارسی طرزِ مذاکرات" قرار دیا۔امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ تکنیکی مذاکرات کسی نئے مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ پہلے سے جاری سفارتی عمل کا تسلسل ہیں، اور دونوں فریق مختلف تکنیکی معاملات پر مسلسل رابطے میں ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا۔
تاہم ایران نے اس ہفتے دوحہ میں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق تکنیکی بات چیت کے لیے ایک ماہر وفد بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک عوامی سطح پر مختلف مؤقف اختیار کر رہے ہیں، تاہم سفارتی رابطے اور تکنیکی مشاورت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں دوحہ میں ہونے والی ممکنہ ملاقاتیں خطے کی صورتحال اور امریکا، ایران تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔