مرغی کے گوشت کی قیمت میں 14 روپے فی کلو کمی، مارکیٹ میں بدستور گراں فروشی جاری

مرغی کے گوشت کی قیمت میں 14 روپے فی کلو کمی، مارکیٹ میں بدستور گراں فروشی جاری

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے برائلر گوشت کی سرکاری قیمت میں 14 روپے فی کلو کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم مارکیٹ میں گراں فروشی بدستور جاری ہے۔

 شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پرائس کنٹرول حکام کی جانب سے نرخ نامے کی خلاف ورزی پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہو رہی۔

 سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت میں واضح فرق
نئی سرکاری قیمت: برائلر گوشت 432 روپے فی کلو مقرر
گزشتہ روز کی قیمت: 475 روپے فی کلو
تاہم مارکیٹ میں برائلر گوشت اب بھی 450 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے
 زندہ برائلر کے نرخ بھی مقرر، لیکن عملدرآمد ندارد
زندہ برائلر کا تھوک ریٹ: 284 روپے فی کلو
پرچون ریٹ: 298 روپے فی کلو
مگر شکایات کے مطابق منڈی میں زندہ مرغی 295 روپے فی کلو سے زائد میں فروخت ہو رہی ہے
 شہریوں کا ردِعمل: گراں فروش بے لگام، کارروائی غائب
شہریوں کا کہنا ہے کہ نرخ نامے صرف کاغذوں تک محدود ہیں
انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
"قیمتوں پر کنٹرول کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ مہنگائی کے ستائے عوام کا جینا مشکل ہو جائے گا۔"
 ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر سوالیہ نشان
ضلعی حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود
مارکیٹوں میں کوئی واضح چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آ رہا
صارفین کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر چھاپے اور جرمانے نہ کیے گئے تو سرکاری قیمت کا فائدہ صرف کاغذی رہے گا
 نتیجہ: نرخ کم، نرخی عمل ندارد
مرغی کے گوشت کی قیمت میں کمی عوامی ریلیف کی نیت سے تو کی گئی، مگر مارکیٹ میں عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ ریلیف عام صارفین تک نہیں پہنچ پا رہا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پرائس کنٹرول ٹیمیں متحرک ہوں اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کریں تاکہ سرکاری ریٹ کا فائدہ حقیقی معنوں میں عوام کو حاصل ہو۔