لال پل ڈسپوزل سٹیشن سے گندا اور زہریلا پانی براہ راست نہر میں پھینکا جارہا ہے‘وزیراعلی پنجاب فوری ایکشن لیں:شہریو ں کا مطالبہ
لاہور (شہزاد راجپوت) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ماحول دوست اور صاف ستھرا پنجاب ویژن کو واسا کے نااہل افسروں نے شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔ شہریوں کو نکاسی آب کی بہتر سہولیات کی فراہمی کا خواب اس وقت چکنا چور ہوتا نظر آیا جب انکشاف ہوا کہ واسا انتظامیہ نے لال پل ڈسپوزل سٹیشن سے نکاسی آب کا گندا اور زہریلا پانی براہ راست لاہور کی مشہور مین کینال میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق واسا کے متعلقہ عملے نے نکاسی آب کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کو چھپانے کے لیے یہ غیر قانونی اور خطرناک اقدام اٹھایا۔ لاہور کینال نہ صرف شہر کی خوبصورتی کا مظہر سمجھی جاتی ہے بلکہ مختلف علاقوں میں کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے اس کا پانی استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں گندے سیوریج کے پانی کی آمیزش سے نہ صرف زرعی زمینوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق سیوریج کا پانی فصلوں کے لیے زہریلا اور تباہ کن اثرات رکھتا ہے۔ اس میں شامل کیمیکل، انسانی فضلہ اور دیگر آلودہ اجزا خوراک کی زنجیر میں شامل ہو کر شہریوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ جن میں ہیپاٹائٹس، آنتوں کی بیماریاں اور جلدی امراض شامل ہیں۔اس سارے معاملے پر ایکسیئن عزیز بھٹی ٹاؤن سلمان مرزا نے مکمل لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس عمل کی کوئی اطلاع نہیں جو کہ ادارہ جاتی بدانتظامی اور نچلی سطح پر نگرانی کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب واسا کے تجربہ کار ایم ڈی، غفران احمد کی خاموشی اور تاحال اس سنگین مسئلے پر کوئی اقدام نہ اٹھانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔شہری اور ماحولیاتی حلقے حکومت پنجاب سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کی جائے اور نہر میں آلودہ پانی ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور کینال کے پانی کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے ماحولیاتی اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق لاہور کو صاف، سرسبز اور صحت مند شہر بنانا ہے لیکن اس قسم کی انتظامی کوتاہیاں اور غیر قانونی اقدامات ان عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔