وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور تھلیسیمیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کی سہولتیں بڑھانے سے زیادہ اہمیت مریضوں کی تعداد کم کرنے کو دی جائے۔
انہوں نے موبائل تھلیسیمیا وین کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں، اور پیدائش کے دوران وقفہ نہ دینے کے باعث اسپتالوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال 400 ماؤں کی موت بچوں کی پیدائش کے دوران ہوتی ہے۔مصطفیٰ کمال نے تھلیسیمیا کے حوالے سے کہا کہ یہ مرض قابل روک تھام ہے، کیونکہ متاثرہ افراد کی شادی سے ہی بچوں میں یہ مرض پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاج کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹ دستیاب ہے اور 50 ہزار روپے میں کوئی ایک بون میرو میچ کرتا ہے، تاہم پاکستان میں تھلیسیمیا کے مریض بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ حکومت اور قوم کی غفلت ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ تھلیسیمیا کے ٹیسٹ کو نکاح سے پہلے لازمی قرار دینے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور صحت کی دیکھ بھال کا مقصد بیماری سے بچانا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنا۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کی صحت اور بیماریوں کا اثر ملک کی ترقی پر پڑتا ہے، اور ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد انسان کو مریض بننے سے بچانا ہے۔