اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان نے پاکستان کے معروف ایتھلیٹ ارشد ندیم کو جولین تھرو میں گولڈ میڈل جیتنے پر خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں مختلف صوبوں اور ڈیپارٹمنٹس کے نمائندے شریک ہوئے، جس میں فیڈریشن کے عہدیداروں نے پاکستان کے ایتھلیٹس کی مستقبل کی تیاری کے لیے بڑے فیصلے کیے۔اجلاس کی صدارت بریگیڈئر (ر) وجاہت حسین نے کی، جس میں ارشد ندیم، یاسر اور شجر عباس کو بین الاقوامی معیار کے کوچز سے تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تربیت کا مقصد ان کھلاڑیوں کو مزید میڈل جیتنے کے قابل بنانا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان میں ہونے والی ساف کراس اتھلیٹکس چیمپیئن شپ کی تیاریوں میں تیزی لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں نوجوان کھلاڑیوں کی تلاش اور ان کی تربیت کے لیے خصوصی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات میں سہولتوں سے محروم بچوں کو تربیت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا شامل ہے۔
ڈوپنگ کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر واضح کیا گیا کہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور میراتھن و روڈ ریسز کے لیے بھی فیڈریشن آپریشنل اور ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرے گی۔ اسپانسر شپ کے ذریعے حکومتی فنڈنگ کی بجائے مزید فنڈز حاصل کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی، جس کے تحت مارکیٹنگ کے شعبے کو مزید فعال کیا جائے گا۔مزید برآں، پاکستان میں موجود کوچز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، اور یہ بھی طے کیا گیا کہ پاکستان کے کوچز پی ایچ ڈی پروگرام کا حصہ بنیں گے تاکہ کھیل کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر میجر جنرل (ر) اکرم ساہی کی زیر نگرانی ارشد ندیم اور دیگر اتھلیٹس کی کارکردگی کو سراہا گیا، جس سے ان کی محنت اور کمٹمنٹ کا اعتراف کیا گیا۔