تحریک تحفظ آئین پاکستان کومتحرک کرنیکا فیصلہ

  اسلام آباد ،سرگودھا( خصوصی رپورٹ )تحریک تحفظ آئین پاکستان کا سربراہی اجلاس محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہوا جس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کومتحرک کرنیکا فیصلہ کیا گیا ، اجلاس میںاپوزیشن اتحادی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور اپوزیشن اتحاد کے ترجمان اخونزادہ حسین نے شرکت کی۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں8 فروری کو مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنیکے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال پر غور کیا گیا ،اس حوالے سے مختلف آپشنز زیر غور آئے۔ ہم آئندہ چند دنوں میں باقاعدہ طور پر اپنی ان سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کے کراچی دورے کا حتمی شیڈول بھی جلد ہی ترتیب دیا جائے گا۔اپوزیشن اتحاد کی سب سے بڑی تشویش یہی ہے کہ اس جعلی فسطائی حکومت اور ان کے ہینڈلرز سے انصاف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی مگر ستم یہ ہے کہ ملک کی موجودہ عدلیہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہوگئی۔تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد اپنے کارکنوں کو ان کے اس ظلم اور فسطائیت سے آزادی دلائی گی۔ یہ جعلی حکومت ہمارا حوصلہ ان ہتھکنڈوں سے پست نہیں کرسکتی۔حال ہی میں صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد پیکا آرڈیننس کا اطلاق کرنا بھی ان کی ہماری رہی سہی جمہوری آزادیوں کا گلہ گھونٹ دینے کی ایک بزدلانہ کوشش ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیپی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ وزیراعظم پرچی آنے پر مذاکرات کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت پالشیا یا اردلی سے زیادہ نہیں ، ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے لوگوں کا سودا کرکے پانی کی تقسیم کرنے پر راضی ہو جائے گی۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو امریکا یا انگلستان سے کوئی امید نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا پر آرٹیکل 6 لگے گا ۔ انہوں نے الیکشن چوری کرانے میں موجودہ حکمرانوں کا ساتھ دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں لیکن ہمارا قصور کیا ہے یہ ہمیں معلوم نہیں۔ پارلیمانی کمیٹی بنانے کے لیے میرے لکھے ہوئے خط کا ابھی تک وزیراعظم کی طرف سے جواب نہیں دیا گیا۔ یہ معاملے کو لٹکانا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان اور دیگر دو الیکشن کمیشن کے افسر ریٹائر ہوچکے ہیں،انہیں تاریخ معاف نہیں کرے گی، آزادی صحافت کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے ، اظہار رائے کی آزادی پر انا آ وانا علیہ راجعون کہوں گا۔