ضلعی انتظامیہ نے جنگ بندی کرا دی تھی لیکن دوسرے فریق سے بات چیت کیلئے جانے والے قافلے پر فائرنگ کی گئی‘اے سی سعید ہسپتال منتقل
جرگے میں معاہدے پر عمل درآمد کیلئے کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ ، جرگہ کی اگلی بیٹھک کا اعلان مشاورت کے بعد ہوگا:بیرسٹر سیف کی میڈیا سے گفتگو
پشاور‘کوہاٹ(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)اپر کرم میں دو قبائل کے درمیان جنگ بندی کے لیے آنے والے سرکاری قافلے پر فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر کرم سمیت تین پولیس اہل کار زخمی ہوگئے‘ایس ایچ او کے مطابق اپر کرم میں ضلعی انتظامیہ نے جنگ بندی کروا دی تھی لیکن دوسرے فریق سے بات چیت کے لیے جانے والے قافلے پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ میں سرکاری قافلے کی قیادت کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر کرم منان زخمی ہوگئے۔ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر منان کو بوشہرہ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔لجو کلے کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر امن و امان قائم کرنے کے لیے بوشہرہ جا رہا تھے جس پر فتح کلے کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔دریں اثناء م امن جرگے میں امن معاہدہ پرعمل درآمد کا اعلان کردیا گیا۔ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دونوں فریقین کی کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جرگہ کی اگلی بیٹھک کا اعلان مشاورت کے بعد ہوگا، کرم مسئلہ نفرت کا نتیجہ ہے، ہم نے اسلامی تعلیمات بھلا دی ہیں،ہم سب اپنا نقصان کر رہے ہیں،جرگہ تب کامیاب ہوگا جب ہم نفرتیں ختم کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے،انسان کا قتل ناقابل معافی ہے،ہم اپنے بچوں اورعورتوں کو قتل کرتے ہیں، باہر سے کوئی نہیں آسکتا، ہم سب ایک دوسرے کے دشمن بنے ہیں۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا نفرت پھیلانے میں بڑا کردار ہے، کرم امن معاہدے پر پورے ملک نے سکھ کا سانس لیا، لیکن شرپسندوں کو امن منظور نہیں، شرپسندں کو سامنے لانا ہوگا