پاکستان کے وزیر برائے کرپٹو اور بلاک چین، بلال بن ثاقب، نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک میں گورننس میں ڈیجیٹل انقلاب نہ لانا ایک بڑا خطرہ ہے اور یہ نظام کے بیٹھ جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں ملازمتیں، فری لانسنگ، کال سینٹرز اور دیگر شعبوں پر مصنوعی ذہانت (ای آئی) کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اور ان تبدیلیوں کو اپنانے کے لیے تعلیمی نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ ہمیں سوورن کمپیوٹ (سوفٹ ویئر اور ہارڈویئر کا خودمختار اور خودمختار نظام) کو اپنانا ہوگا، ورنہ ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو دل سے قبول کرنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ڈیجیٹل اصلاحات میں سب سے بڑی رکاوٹ ادارہ جاتی مزاحمت ہے، یعنی سرکاری اور عوامی ادارے نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے ہچکچاتے ہیں، جو ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ بلال بن ثاقب کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہم نے ڈیجیٹل تبدیلی کو ترجیح نہیں دی، تو ملک مستقبل میں ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جائے گا۔