داتا دربار کی توسیع و تزئین و آرائش کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب

داتا دربار کی توسیع و تزئین و آرائش کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب

لاہور: برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار داتا دربار کی توسیع اور تزئین و آرائش کا ایک بڑا منصوبہ تیزی سے مکمل ہونے کے قریب ہے۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ، سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر پنجاب اوقاف و مذہبی امور، کے مطابق تقریباً 6.3 ارب روپے مالیت کے منصوبے کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بیرونی ترقیاتی کام، اندرونی تزئین، اور مسجد و دیگر سہولیات کی توسیع۔پہلے مرحلے میں کربلا گامے شاہ سے آنے والی سڑک کی بہتری، پیدل راستوں کی تعمیر اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے پر کام جاری ہے۔ مزار کے سامنے سابقہ پرندہ مارکیٹ کی جگہ کو پارکنگ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں 150 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی گنجائش ہوگی، اور پارکنگ سے مزار تک محفوظ رسائی کے لیے پیدل انڈر پاس بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔دوسرے مرحلے میں مرکزی مزار کی خوبصورتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں مدینہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے گنبد اور خطاطی کا کام جاری ہے۔ قرآن کی آیات اور احادیث کو شامل کرنے کے لیے ماہرین اور علماء سے مشاورت کی گئی ہے۔

تیسرے اور اہم ترین مرحلے میں جامع مسجد، سماع ہال اور کھلے صحن کی توسیع شامل ہے۔ تین اطراف سے تقریباً 28 کنال رقبہ مزید شامل کیا جا رہا ہے، جس سے مسجد اور دربار کا مجموعی رقبہ 85 کنال تک پہنچ جائے گا۔ مسجد کی گنجائش ایک ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار نمازیوں تک کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔مزید برآں، زائرین کے لیے جدید طرز کے لنگر خانے، بیٹھنے کے وسیع مقامات اور مذہبی تقریبات کے لیے جگہیں بھی تیار کی جا رہی ہیں، جبکہ شدید گرمی کے پیش نظر ہائیڈرولک کنوپیاں نصب کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے جس کی لاگت 2.8 ارب روپے ہے اور اسے جرمنی سے درآمد کیا جائے گا۔ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق تعمیراتی کام کے باوجود مزار کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے، اور ہفتہ وار نذرانہ 25 لاکھ سے بڑھ کر 46 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سی سی ٹی وی اور مرکزی کنٹرول سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

زائرین نے جاری ترقیاتی کام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لاہور کے رہائشی محمد عمران نے کہا کہ بہتر سہولیات سے زائرین کو آسانی ہوگی اور رش میں کمی آئے گی۔ فیصل آباد کی رہائشی عائشہ بی بی نے خواتین کے لیے الگ انتظامات کو مثبت اقدام قرار دیا، جبکہ غلام مصطفیٰ (ملتان) نے کہا کہ مزار کی بہتری سے عقیدت مندوں کو مزید سہولت ملے گی۔داتا دربار صدیوں سے جنوبی ایشیا میں صوفی روایت کا اہم مرکز رہا ہے، جہاں ہر روز ہزاروں افراد حاضری دے کر روحانی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ مزار نہ صرف مذہبی عقیدت بلکہ رواداری، محبت اور انسان دوستی کے پیغام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔