زندگی کی بہتری یا منشیات کا عادی۔۔۔۔!

سیدذوالفقار حسین
منشیات، خواہ وہ چرس ہو یا کوئی موجودہ دور کی جدید نشہ آور چیز، کبھی بھی انسان کی زندگی کو بہتر نہیں بناتی۔ اکثر لوگ یہ سوچ کر نشے کی طرف مائل ہوتے ہیں کہ شاید اس سے ذہنی دباؤ کم ہو جائے، دل کو سکون مل جائے، یا زندگی کے مسائل کچھ دیر کے لیے بھلا دیے جائیں۔ ابتدا میں وقتی طور پر ایسا محسوس ضرور ہوتا ہے کہ جیسے ذہن ہلکا ہو گیا ہو، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک دھوکہ اور فریب ہوتا ہے۔ یہ سکون حقیقی نہیں بلکہ چند لمحوں کا مصنوعی احساس ہوتا ہے، جو انسان کو آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
جب انسان کو پہلی مرتبہ مطلوبہ ‘‘سکون’’ حاصل نہیں ہوتا تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ شاید مقدار کم تھی، اس لیے وہ نشے کی مقدار بڑھا دیتا ہے۔ پھر بھی جب زندگی کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں تو وہ ایک نشے سے دوسرے نشے کی طرف بڑھنے لگتا ہے، اس امید میں کہ شاید اب کی بار زندگی بدل جائے گی۔ مگر زندگی بدلنے کے بجائے اس کی جسمانی، ذہنی، معاشی اور سماجی حالت مزید خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔
منشیات نہ صرف انسان کی صحت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے رشتے، عزت، روزگار اور مستقبل کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری میں نشہ کرتا ہے، کیونکہ اس کا جسم اور دماغ اس کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ یوں وہ آہستہ آہستہ اپنی شخصیت، خوابوں اور زندگی کے اصل مقصد سے دور ہوتا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کو بدلنے کا راستہ نشہ نہیں بلکہ مثبت سوچ، صبر، محنت، اچھے لوگوں کی صحبت اور بروقت رہنمائی ہے۔ مشکلات سے فرار حاصل کرنے کے لیے منشیات کا سہارا لینا وقتی دھوکہ ہے، جو آخرکار انسان کو تباہی کے دہانے پر لے جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی اس برائی سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں تاکہ معاشرہ ایک صحت مند اور محفوظ سمت میں آگے بڑھ سکے۔