وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بیانات کو ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان دشمنی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر نیازی لا (نیشنل ایکشن پلان یا کسی دیگر قانون کا ذکر ہے) لا نہیں ہوگا تو پاکستان نہیں چل سکے گا۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ ہر معاملے پر نیازی لا لاگو کیا جائے، کیونکہ اب یہ لا کا نفاذ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سلامتی کے معاملات پر وزیراعلیٰ کے بیانات مایوس کن ہیں، اور یہ کہ اندر سے ہدایات دینے والا کوئی شخص ملاقاتوں کے لیے آ رہا ہے، جو قابل قبول نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ نیازی لا، جس کے تحت خیبر پختونخوا کی حکومت چل رہی ہے، اب نہیں چلے گا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی فرد کی ذات کے لیے جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ اپنی بقا کے لیے لڑ رہا ہے۔ اگر وزیراعلیٰ کہے کہ نیازی لا نہیں ہوگا تو یہ حب الوطنی نہیں بلکہ پاکستان دشمنی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے حصے دار ہیں اور انہیں معاملات میں حصہ لینا چاہیے۔ اگر وہ نیازی لا کے تحت چلنا چاہتے ہیں تو پاکستان کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں ہے۔ پاکستان 25 کروڑ عوام کی ملکیت ہے، اور انسان آتے جاتے رہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں کی سوچ وسیع ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایک شخص کے ارد گرد پاکستان کی بقاء کو داؤ پر لگا رہے ہیں، جو کہ بالواسطہ دہشت گردی کی معاونت کے مترادف ہے۔ یہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں اور پاکستان کے بجائے افغانستان کی پوزیشن کو مضبوط بنا رہے ہیں۔