ملک احمد خان کا بلدیاتی اختیارات اور 27ویں ترمیم فوری کرنے کا مطالبہ

ملک احمد خان کا بلدیاتی اختیارات اور 27ویں ترمیم فوری کرنے کا مطالبہ

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اہم سیاسی اور آئینی مطالبات کا اعادہ کیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو سیاسی، انتظامی، اور مالیاتی اختیارات دیے جائیں تاکہ مقامی حکومتیں مؤثر طریقے سے کام کرسکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر 27ویں آئینی ترمیم کے تحت لوکل گورنمنٹ کے لیے ضروری ہو تو فوری طور پر اس ترمیم کو پارلیمنٹ سے منظور کرانا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ایک متفقہ قرار داد منظور کی گئی ہے جس میں مقامی حکومتوں کے لیے آئینی تحفظ اور مکمل اختیارات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پانچ سال ہے اور جب لوگوں کے پاس جمہوریت کے ثمرات نہیں ہوں گے تو ان کا اعتماد کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ملک احمد خان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے معاملات طویل عرصے سے حل طلب ہیں اور ایک صدی کے قریب عرصہ گزر چکا ہے، جس میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر مقررہ مدت میں انتخابات نہیں ہوتے تو یہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوگا اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پنجاب اسمبلی آئین میں تبدیلی نہیں کر سکتی، لیکن بلدیاتی اداروں کو سیاسی، انتظامی، اور مالیاتی حقوق دینے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر 27ویں ترمیم کی ضرورت ہو تو اسے فوراً نافذ کیا جائے۔مزید برآں، اسپیکر نے حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیض آباد اور مری روڈ پر ہونے والی لاقانونیت دیکھی ہے، اور انہوں نے پولیس پر فائرنگ اور بلوائیوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئینی ترمیمات کی بازگشت اور مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینا ضروری ہے تاکہ جمہوریت مضبوط اور مستحکم رہے۔