پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں نے اہم سیاسی اور آئینی موقف کا اظہار کیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ 27ویں ترمیم پر ریسپانس دینے سے قبل بانی عمران خان سے ملاقات کریں گے، اور اس معاملے پر سیاسی کمیٹی میں مشاورت کے بعد اپنی حکمت عملی طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے عدالت کے احکامات کے باوجود بانی عمران خان سے ملاقات نہیں دی جارہی، جو ظلم اور زیادتی ہے، اور یہ کہ بانی کو جتنی بھی جیل میں رکھا جائے، وہ عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔انہوں نے 26 ویں ترمیم کے حوالے سے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم نے ملک میں دراڑیں پیدا کی ہیں، اور اب 27 ویں ترمیم آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے دوران متعدد آرٹیکلز میں ترامیم کی گئیں، اور مختلف متنازع آرٹیکلز کی تفصیلات بھی شیئر کیں، جن میں جوڈیشل کمیشن، آئینی بنچ، چیف جسٹس کی مدت، اور ججز پر نظر رکھنے کے قوانین شامل ہیں۔بیرسٹر گوہر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم اور صوبوں کے حوالے سے ترمیمات حساس مسائل ہیں، جنہیں سیاسی اتفاق رائے کے بغیر تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جائے گا، اور کسی بھی ترمیم کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ کسی بھی ایسی شق کو تبدیل نہیں کیا جائے گا جس سے صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر کوئی فیصلہ لیا جائے، اور کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں میں بھی اتفاق رائے بنیادی اصول ہے۔
اس کے علاوہ، بیرسٹر گوہر نے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اداروں کو مضبوط کرنے اور آئین میں استحکام لانے کے لیے مثبت اقدامات ضروری ہیں، اور کہا کہ فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کی آزادی کو متنازعہ بنانے سے نقصان ہوگا۔ انہوں نے مشال یوسف زئی کے متعلق بھی کہا کہ وہ پارٹی کے معاملات کو پارٹی تک محدود رکھیں اور اشتعال انگیز ویڈیوز سے بچیں۔دوسری جانب، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کے حوالے سے احکامات حاصل کیے ہیں، اور یہ کہ وہ 27 ویں ترمیم کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ یہ ترمیم اسمبلی کے استحقاق کو محدود کرتی ہے اور آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرے گی اور آزاد عدلیہ کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش ہے، اور وہ اس کے خلاف بھرپور مخالفت کریں گے۔