پنجاب بھر میں بڑھتی ہوئی دھند اور اسموگ کے باعث حکومت نے ٹریفک اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے سخت اقدامات کیے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر نے تمام چیف ٹریفک آفیسرز اور ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسرز کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں موسم سرما میں محفوظ سفر کے لیے جامع اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اور اسموگ پیدا کرنے والی گاڑیوں کی نشاندہی اور چیکنگ کے لیے ٹریفک پولیس، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ریت اور مٹی سے بھری گاڑیاں بغیر ترپال کے چلنے سے روکی جائیں گی، اور شوگر کین ٹرالیوں، ٹرکوں اور مزدا گاڑیوں پر ریفلیکٹر اسٹیکرز لگانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ رات کے وقت حادثات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔اس کے علاوہ، پنجاب پولیس نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور سموگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 22 مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور قانون شکن افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، اس مہم کے دوران 1,539 افراد پر 30 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، اور 53 وارننگ جاری کی گئی۔زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی خلاف ورزیوں کی تعداد 1,317 ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ صنعتی سرگرمیوں میں 8 اور بھٹوں میں 14 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔
مجموعی طور پر 82,601 افراد کو 21 کروڑ روپے سے زائد جرمانے کیے گئے اور 16,000 سے زائد افراد کو وارننگ دی گئی ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے کے 616 خلاف ورزیاں بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔پنجاب پولیس کے مطابق، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی خلاف ورزیوں کی تعداد 57,231، صنعتی سرگرمیوں کی 1,678، اور بھٹوں کی 3,220 ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر کے دوران بیک لائٹس، اشارے اور شیشے درست حالت میں رکھیں، رفتار کم کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ شاہراہوں اور صنعتی علاقوں میں سموگ کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا جائے، اور زرعی اور دیگر مقامات پر انسداد سموگ اقدامات کو مؤثر بنایا جائے۔ سموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے گی تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔