غزہ کی پٹی میں انسانی بحران عروج پر، اقوام متحدہ نے قحط کے خطرے کی وارننگ دے دی
غزہ کی پٹی میں بھوک اور غذائی قلت انتہا کو پہنچ گئی ہے، جہاں پورا خطہ قحط کے شدید خطرے میں ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے (اوچا) کے مطابق، غزہ کی مکمل آبادی کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری 20 ماہ سے زائد کشیدگی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان جینز لارکے نے جنیوا میں بتایا کہ غزہ کرہ ارض کا واحد علاقہ ہے جہاں 100 فیصد آبادی کو قحط کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام کی امدادی دعووں کو زمینی حقائق سے مختلف قرار دیا۔ مارچ میں اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی مکمل امدادی ناکہ بندی جزوی طور پر ختم کی گئی ہے، مگر غذائی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت برقرار ہے۔اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ امداد کے معاملے میں حماس کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیل کے اقدامات کو جان بوجھ کر غلط پیش کرتی ہے، تاہم امدادی ٹرکوں کی تعداد اور ان کی تقسیم میں بدانتظامی اور سیکیورٹی مسائل نے امدادی عمل کو متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 900 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت ملی ہے، لیکن صرف 600 ہی سرحد تک پہنچ سکے ہیں اور امداد کی تقسیم میں رکاوٹوں کی وجہ سے متاثرین تک مطلوبہ امداد پہنچنے میں دشواری ہے۔ امدادی سامان پر لوگوں کی بھیڑ اور غیر منظم تقسیم نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔امریکی امدادی ادارے ’’غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعے امداد کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ نظام غیر مؤثر ہے اور اس سے مزید افراتفری پیدا ہو رہی ہے۔ امریکی امدادی مرکز پر ہزاروں فلسطینیوں کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ امداد حاصل کرنا خود ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس میں لوگ لٹیروں اور دیگر خطرات کا شکار ہو رہے ہیں۔غزہ میں یہ انسانی بحران انتہائی نازک مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور فوری، منظم، اور غیر جانبدارانہ امداد فراہم کیے بغیر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں انسانی المیے کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔