سپین نے ایران جانے والے امریکی جنگی طیاروں کیلئے فضائی حدود بند کر دیں

سپین نے ایران جانے والے امریکی جنگی طیاروں کیلئے فضائی حدود بند کر دیں

سپین نے ایران جانے والے امریکی جنگی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کے بعد امریکی طیاروں کو متبادل اور طویل روٹ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔

ہسپانوی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدا ہی میں واضح کر دیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگ یا فوجی کارروائی کیلئے ہسپانوی فوجی اڈوں یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سپین کسی نئے تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتا ہے۔فضائی حدود کی بندش کے باعث ایران جانے والے امریکی جنگی طیاروں کو اب طویل راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے جس سے پروازوں کے دورانیے اور اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر سپین کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دی گئی تو سپین پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

 اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق سپین کا یہ اقدام ایران جنگ کے معاملے پر یورپی ممالک کے محتاط مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ امریکہ اپنی فوجی حکمت عملی کیلئے یورپی اڈوں اور فضائی راستوں پر انحصار کر رہا ہے۔