بعض افراد کو مچھرکا زیادہ کاٹنا جسمانی، جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ،ماہرین

واشنگٹن (آئی این پی )ماہرین کا کہنا ہے کہ   بعض افراد بار بار مچھروں کا نشانہ بنتے ہیں جبکہ دیگر نسبتا محفوظ رہتے ہیں ، یہ فرق محض اتفاق نہیں بلکہ جسمانی، جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صرف مادہ مچھر ہی انسانوں کو کاٹتی ہیں، کیونکہ انہیں انڈوں کی نشوونما کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ مچھر اپنے ہدف کا تعین کرنے کے لیے مختلف حسی اشاروں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں سب سے اہم کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو انسان سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔تحقیق  کے مطابق جو افراد زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جیسے جسمانی طور پر متحرک افراد، حاملہ خواتین یا زیادہ جسمانی وزن رکھنے والے افراد، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔اسی طرح جسم کی بو بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ جلد سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات بعض افراد کو مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتے ہیں