چینی کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے:چیئرمین شوگرملز
لاہور(سپیشل رپورٹر)چیئرمین پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن ذکاء اشرف نے کہا ہے شوگر انڈسٹری پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد زرعی بنیاد پر قائم دوسری سب سے بڑی صنعت ہے۔ چینی کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ شوگر انڈسٹری لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اور زراعت، ٹرانسپورٹ، متعلقہ صنعتوں، تھوک اور پرچون مارکیٹوں میں سالانہ 1000 ارب روپے سے زائد کی براہِ راست اور بالواسطہ کاروباری سرگرمیاں پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو تقریباََ 300 ارب روپے کے براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس ادا کرتی ہے۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہایہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ شوگر انڈسٹری، پاکستان کی سب سے زیادہ ریگولیٹڈ صنعت ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے بارہا یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ شوگر سیکٹر کو ڈی-ریگولیٹ کیا جائے گا مگر ابھی تک اس پر عمل درا?مد نہیں ہوا۔ اگرچہ چینی کی پیداوار کا 70 فیصد جو کہ کمرشل اور صنعتی شعبوں میں استعمال ہوتا ہے مکمل طور پر ڈی-ریگولیٹڈ ہے لیکن گھریلو استعمال کیلئے چینی کی ریگولیشن تاحال جاری ہے، جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی جانب سے ایکس مل چینی کی قیمت کا تعین، ادائیگیوں کے اوقات مقرر کرنا اور سزائیں مقرر کرنا شامل ہیں۔شوگر انڈسٹری بگاس کے استعمال کے ذریعے اپنی مقامی توانائی استعمال کرتی ہے۔ ہماری اضافی توانائی کی پیداوار کے ذریعے ایک ذیلی اسٹیل انڈسٹری قائم ہو چکی ہے اور اس اضافی بجلی کی پیداوار کو دیگر صنعتی استعمالات کیلئے بھی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔