سینیٹ کمیٹی کا دریائوں و آبی گزرگاہوں میں تجاوزارت پر شدید برہمی کا اظہار

نجی ہائوسنگ سوسائٹی میں باپ بیٹی کے گاڑی سمیت سیلاب میں بہہ جانے ، ایف ایٹ انٹرچینج کی حالت زار سے متعلق رپورٹ طلب
اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ کی آبی وسائل کمیٹی نے دریائوں اور آبی گزرگاہوں میں تجاوزارت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے،کمیٹی نے نجی ہائوسنگ سوسائٹی میں باپ بیٹی کے گاڑی سمیت سیلاب میں بہہ جانے اور ایف ایٹ انٹرچینج کی حالت زار سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔ بدھ کو چیئرمین سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت سینیٹ کی آبی وسائل کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وفاقی وزیر آبی وسائل اور سیکرٹری آبی وسائل سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت آبی وسائل میں گریڈ 17 سے 21 کی 16 خالی آسامیوں پر تشویش کا اظہار کیا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ وفاقی دارلحکومت میں مون سون کے نقصانات سے نمٹنے کے لئے تجاوزات کیوں نہیں ہٹائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ آبی گزرگاہوں سے تجاوزارت نہ ہٹانے والوں کیخلاف کریمنل کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر وزارت کے حکام نے بتایا کہ صوبوں میں تجاوزات کی روک تھام صوبائی آبپاشی کے محکموں جبکہ اسلام آباد کی حدود میں تجاوزات کی روک تھام آئی سی ٹی انتظامیہ کا کام ہے، فیڈرل فلڈ کمیشن کا کام رابطے کا ہے۔ اسلام آباد کی نجی سوسائٹی میں باپ بیٹی کا گاڑی سمیت بہہ جانے کے معاملے پر کمیٹی نے نااہلی اور غفلت پر سی ڈی اے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کمیٹی نے وزارت آبی وسائل کو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اس معاملے میں غفلت کے مرتکب ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائیں، کمیٹی  نے سیلاب کے دوران نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی سفارش کی۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ اسلام آباد میں ندی نالوں پر کتنی تجاوزات ختم کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر تجاوزات ختم ہوتیں تو اسلام آباد میں اتنے لوگ نہ مرتے ۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کے اجلاس میں نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ڈی جی واٹر آئے ہی کیوں آئے ہیں، چیئرمین سی ڈی اے کو آنا چاہیے تھا۔رکن کمیٹی سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہاکہ بارشوں میں سی ڈی اے کی نااہلی اور غفلت کھل کر سامنے آئی ہے۔اسلام آباد میں ہر قسم کی ڈرین ہے پھر پانی کیوں کھڑا ہو جاتا ہے، 6 ماہ پہلے بننے والا انڈرپاس پوری طرح بہہ گیا ہے۔ اس موقع پر کمیٹی نے ایک ماہ میں کارروائی کرکے رپورٹ طلب کرلی۔