لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر بھاٹی کے علاقے میں جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ پر پولیس تشدد کے معاملے کی انٹرنل کاؤنٹیبلٹی برانچ (ICB) نے انکوائری مکمل کر لی ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی قصور وار پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں افسران نے غلام مرتضیٰ کو موقع سے تھانہ بھاٹی منتقل کیا اور غیر قانونی حراست میں تقریباً 5 گھنٹے تک رکھا۔ اس دوران اسے ایس ایچ او کے کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انکوائری ٹیم نے کیمرے کی ویڈیو سے بھی شہادت حاصل کی، جس میں پولیس افسران کے غیر پیشہ وارانہ رویے کی تصدیق ہوئی۔ غلام مرتضیٰ نے بیان دیا کہ افسران نے اسے بیوی اور بیٹی کے قتل کے الزام کو قبول کرنے کا دباؤ ڈالا۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ دونوں پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ انکوائری رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کی گئی ہے، جو اسے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائیں گے۔واضح رہے کہ میڈیا پر تشدد کی خبر نشر ہونے کے بعد ایس ایچ او بھاٹی کو معطل کر دیا گیا تھا۔ پولیس افسران کا موقف تھا کہ انہیں ریسکیو اور دیگر اداروں نے بتایا تھا کہ خاتون کا ڈوبنا ناممکن ہے، اس لیے شبے میں غلام مرتضیٰ کو تھانے لے گئے تھے۔