اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو سال قبل ملک کو جو معیشت ورثے میں ملی تھی وہ شدید بحران کا شکار تھی، تاہم حکومت کے مشکل مگر ضروری فیصلوں کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو استحکام کی راہ پر ڈالنا آسان نہیں تھا، لیکن مسلسل اصلاحات اور دانشمندانہ فیصلوں سے حالات میں بہتری آئی ہے۔اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کو سنگین معاشی چیلنجز درپیش تھے۔ افراطِ زر کی شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر تھے اور مالیاتی نظم و ضبط شدید دباؤ میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آغاز ہی میں سخت فیصلے کرنا پڑے، جن کے اثرات ابتدا میں مشکل محسوس ہوئے، مگر آج انہی فیصلوں کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔شہباز شریف نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو معیشت پر اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ گئی، جو مالی نظم و ضبط کی بہتری کی علامت ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے معاشی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے تحت 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی کامیاب نجکاری کو بھی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف حکومتی بوجھ کم ہوا بلکہ معیشت میں شفافیت اور بہتری آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن حکومت نے ملک کو درست سمت میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار معاشی بہتری کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور حکومت اس سفر کو جاری رکھے گی تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔