پل پل رنگ بدلتے صدر ٹرمپ

 امجد علی
ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا کردار بن چکا ہے جو ہر لمحہ رنگ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً طے شدہ شرائط پر مبنی کسی بھی معاہدے کے آخری چند لمحوں کو بھی وہ فلمی کلائمکس میں بدل دیتا ہے، جیسے سب کچھ محض ایک سٹے بازی ہو۔ پہلے ‘‘شکریہ ایران’’ کہہ کر فضا کو بہترین کیا، پوری دنیا کو سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ ابھی اسلام آباد میں بھی دوسرے مذاکراتی راؤنڈ کی مکمل تیاریاں ہیں شہر کی عوام کے لیے بندش ہے۔ غالب امکان یہی تھا کہ ایک دو روز میں یہ معاہدہ دستخط ہو جائے گا۔  پھر اچانک مکاری سے مزین ایک نئی کہانی شروع کر دی، اپنی مرضی کی شرائط، من پسند تقاضوں کا جال بن دیا۔ امریکہ سمندری ناکہ بندی جاری رکھے گا، افزودہ یورینیم اپنے پاس لے جائے گا، اور یوں سارا منظرنامہ ایک دم ایک سو اسی ڈگری گھوم گیا۔ دنیا پھر سے شش و پنج میں الجھ گئی کہ اصل کھیل ہے کیا۔  گھٹن کے اس ماحول میں ہر لمحہ نئی خبریں میڈیا کی زینت بن کر ممکنہ جنگ بندی میں چنگاری کا کام کر جاتی ہیں تازہ اطلاعات کے مطابق ایران کے پاسداران نے انڈیا کے تین بحری جہازوں کو ہدایات کی مسلسل خلاف ورزی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں ہٹ اینڈ فائر کر دیا ہے کافی ممالک نے امریکی اجازت نامہ یا شرائط کو پس پشت ڈالتے ایران سے تیل کے معاہدے دستخط کر دئیے ہیں۔ یقیننا وہ کم قیمت تو ہونگے مگر ابنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی شرائط اور اصولوں پر مبنی ہونگے یہی امریکی پیڑو ڈالر کی شکست و ریخت کا فارمولا ہے جسے امریکہ پوری شدومد سے دھمکیاں لگا کر بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا سب اچھا ہے تاثر درست نہیں ہے۔ موجودہ پیڑن بتا رہا ہے کہ کہیں بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اب تو انکھوں دیکھے پر بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔۔

اس ساری چال کا اصل ہدف شاید ایک ہاری ہوئی جنگ کو ایک نئے جیت کے بیانیے میں بدلنا ہے، ایسا بیانیہ جس میں ایران کی جانب سے دکھائی گئی نرمی کو کیش کیا جا سکے۔ اور جنگ کی جیت سمیت جنگ بندی کا سارا کریڈٹ امریکہ خود سمیٹ سکے۔ اگر مذاکرات کے دوران ایران امریکی ڈسٹرائرز کو لاک کر کے بار بار واضح وارننگ نہ دیتا، اور وہ پیچھے نہ ہٹتے، تو بعید نہ تھا کہ جنگ مزید شدت اختیار کر لیتی۔ بظاہر حکمت عملی یہ تھی کہ ڈسٹرائرز آگے بڑھتے، آبنائے ہرمز کو کلیئر کر کے اس پر کنٹرول حاصل کیا جاتا، اور پھر امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کامیابی کا جشن مناتا۔ ایک قدم اور آگے روس پر تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں کے وقفے میں 15 روز مزید اضافہ کر دیا گیا اور ساتھ ہی حیران کن طور پر ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد اور سخت کر دی گئیں۔ یہ صورت حال تو امریکہ کی جنگ بندی کی خواہش اور کوشش کو مشکوک اور بدنیتی پر مبنی بنا دیتی ہے سچ تو یہ ہے کہ جنگ میں وقفہ حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی افواج کی تیاری کے لیے استعمال کر رہا ہے جو اب مشرق وسطیٰ کے سمندروں میں پہنچ رہی ہے یا پہنچ چکی ہے یہ امریکن میرینز کی موومنٹس بذات خود امریکہ کے ارادوں کی حقیقت کو بینقاب کر رہی ہیں۔

یہ صورت حال ایک بڑے المیے کی عکاس ہے۔ جہاں عالمی قیادت فہم و فراست کے بجائے شطرنج کی بساط پر کھیلتی دکھائی دیتی ہے۔ ہزاروں، لاکھوں انسانوں کی زندگیاں گویا محض مہروں کی طرح استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر یہی طرز قیادت کسی مقامی سطح پر نظر آتا تو شاید اسے سنجیدہ لینے کی بجائے غیر متوازن ابتر ذہنی کیفیت سمجھا جاتا، مگر عالمی سطح پر یہی انداز طاقت اور حکمت کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس میں صدر ٹرمپ انتہائی مکارانہ اور شاطر انداز میں چال پہ چال چل رہا ہے تیزی عقل دلیل کی تمام حدود سے آگے نکل جائے تو عقل نہیں رہتی مینٹل ڈس آرڈر بن جاتی ہے۔ ایک طرف مذاکرات اور جنگ بندی کے اشارے دوسری جانب سمندری علاقوں میں تیز حربی نقل و حمل اور پس پردہ مختلف امریکی کمپنیوں کو اصلحہ سازی میں شراکت کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں تیز ترین بنیادوں پر اصلحہ بنا کر پنٹاگون کے حوالے کیا جا سکے۔ دوسری جانب چائنہ اور روس کی جانب سے نئی ڈویلپمنٹس کے حوالے سے کوئی قابل ذکر بیان یا عملی اقدام سامنے نہیں ایا۔ یقیننا یہ مضبوط طاقتیں خاموش نہیں بیٹھیں ہیں۔ جال میں پھنستی تڑپتی مچھلی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے حوالے سے چپ چاپ ضروری فیصلے کر رہے ہو گے۔ اس بے یقینی کی کیفیت میں  یہاں ہر گھنٹے بعد صورت حال یکسر پلٹے کھا رہی ہو جنگ بندی کے متعلق کچھ حتمی نہیں کہا جا سکتا۔ پھر بھی خوف کے بجائے بادلوں کے سائے تلے امید ہی سانس کا واحد دروازہ ہے جہاں سے ہم امن و آشتی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
انسانیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ایسے ہاتھوں سے امن کی امید لگائے بیٹھی ہے جن میں ماچس تھامی ہوئی ہے۔ یا ایک ہی شخص نے پوری دنیا کو بکری بنا کر گھاس پھونس جیسی باتوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ خطرہ صرف جنگ کا نہیں، بلکہ اس مستقل بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا بھی ہے جو ہر لمحہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے جھٹکے دے رہا ہے۔ سوال یہی ہے کہ جب فیصلے اس انداز میں ہوں، تو ہم کیسے یقین کر لیں کہ دنیا واقعی محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ افسوس… صد افسوس۔ 
موجودہ عالمی حالات ایک گہری بے یقینی کے بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ اندیشہ یہ ہے کہ اگر مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے اور دوبارہ ناکامی سے دوچار ہو گئے، تو امن کے نام پر کی جانے والی سفارتی سرگرمیاں محض water Buble بن کے رہ جائیں گی۔ ایسی صورت میں ایران کو ایک بڑے دباؤ اور ممکنہ عسکری تباہی کن یلغار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح یہ منظرنامہ صرف ایک علاقائی تنازع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ  وسیع تر عالمی تصادم کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ دنیا ورلڈ وار تھری جیسی جنگ کے منہ میں جا سکتی ہے ایک ایسا تصادم جو انسانیت کے لیے ناقابل تصور تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
اگرچہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جغرافیائی فاصلوں کی بنا پر امریکہ  محفوظ رہے گا، تو تیز ترین ٹیکنالوجی کے پروں پر اڑانیں بھرتی   گلوبل دنیا میں ایسی سوچ کو جاگتی آنکھوں کا خواب ہی کہا جا سکتا ہے لیکن کسی بھی بڑے پیمانے کے تصادم میں اثرات سرحدوں کے پابند نہیں رہتے۔ اسی لیے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا تصور ہی انسانیت کے لیے ایک ہولناک انتباہ ہے جو صرف ایک غلط قدم کے فاصلے پر کھڑی ہے، مگر اس کے اثرات نسلوں تک محیط ہوں گے۔ یاد رہے ورلڈ وار سیکینڈ کے دوران برطانیہ اپنی گرتی قوت و کنٹرول کو بچانے کی اور امریکہ نئے ورلڈ لکھنے کی کوشش میں تھا۔ اس وقت امریکہ اپنی سپر میسی بچانے کے لیے بہت بڑی قیمت چکا رہا ہے اور چائنہ۔۔خاموش تماشائی۔۔ پیڑو یوآن کی صورت میں نیا ورلڈ آڈر لکھنے میں مصروف ہے جسے ریاستوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر نظر رکھنے والے سمجھتے ہیں۔ پچاس روز سے جاری جنگی کاروائیوں اور بیانات اور ان میں پل پل بدلاؤ بے یقینی کے ڈاٹس ملا کر خبروں کی بجائے خود پیش بینی کریں اور آنے والے دنوں کا نقشہ سمجھیں، کل کیا ہو گا، ایران نہیں ہو گا یا سپر پاور دھڑام ہو گی۔ اللہ کرے کہ معاہدہ ہو جائے، کیونکہ اسی صورت میں دونوں موجود بھی ہو سکتے ہیں۔ 
ایسے نازک وقت میں عالمی برادری، خصوصاً ذمہ دار ریاستوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنیں بلکہ تیز ترین سفارتی فعال کردار ادا کریں۔ سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنا اور تمام فریقین کو معتدل، منصفانہ اور قابل قبول شرائط پر آمادہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر اہل خرد وقت پر صدر صاحب کو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر کے پاس لا کر انجیکشن لگوا لیں تو صدر صاحب کی طبیعت بہتر ہو سکتی ہے ورنہ اگر صدر کی پھیلائی بے یقینی نے یقین پر غلبہ پا لیا، تو پھر وہی ہوگا جو ماچس والا جنگل کے ساتھ کرتا ہے۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے شاید ایسے ہی دگر گوں حالات کے لیے فرمایا تھا۔
یقیں مثل خلیل آتش نشینی
یقیں اللہ مستی خود گزینی
سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار
غلامی سے بتر ہے بے یقینی