پاکستان میں تعلیم کا زوال

محمد تسنیم رضا
پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے علم و دانش کی روایت کی امین رہی ہے۔ یہاں کے مدارس اور تعلیمی اداروں نے ماضی میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا کیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں علم و ہنر کے چراغ روشن کییزمانہ قدیم میں بھی یہ خطہ علم و ہنر کا مرکز رہا ہے سندھ وادی کی تہذیب (موہنجو داڑو اور ہڑپہ) صرف رہائش اور تجارت تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں ریاضی، انجینئرنگ، شہری منصوبہ بندی اور طب کی جھلک بھی ملتی ہے۔ ٹیکسلا  کا شمار دنیا کی اولین یونیورسٹیز میں ہوتا تھا، جہاں دنیا بھر سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔
برصغیر میں اسلام کے آنے کے بعد لاہور، ملتان، اْچ شریف اور دیبل جیسے شہر علم و عرفان کے مراکز بنے۔ یہاں بڑے بڑے مفسرین، محدثین، صوفیا اور فلسفی پیدا ہوئے۔ فارسی و عربی کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں میں بھی علمی کام ہوا۔بابا فرید، داتا گنج بخش، شاہ رکن عالم اور دیگر صوفیاء￿  نے نہ صرف روحانیت بلکہ تعلیم، رواداری اور اخلاقی تربیت کو فروغ دیا۔ ان کے خانقاہی نظام نے عام آدمی تک علم پہنچایا۔انگریزا?ء￿ ے تو انہوں نے  اپنا تعلیمی نظام رائج کیااور اسی دور میں سر سید احمد خان، علامہ اقبال اور دیگر مفکرین نیبھی علمی فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے علم، تحقیق اور فکر کی آماجگاہ رہا ہے۔
یہ  خطہ علم ،تحقیق اور فکر کی ا?ماجگاہ رہا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے ہم نے تعلیم کو زوال کی اس دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کا کا راستہ بہت کٹھن اور دشوار ہے 
۔ آج جب ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ایک کربناک منظر سامنے آتا ہے۔ ادارے کھڑے ہیں مگر روح دم توڑ رہی ہے، نصاب ہے مگر فکر مفقود ہے، استاد ہیں مگر کردار کے پیمانے بدل گئے ہیں، طلبہ ہیں مگر مقصدیت اور وابستگی کے جذبے سے خالی۔  ہم نہ صرف تعلیم سے پیچھے  رہ گئیبلکہ ہم نے تعلیم کو زوال کی اس دلدل میں دھکیلنے کے لیے پورا منفی کردار ادا کیا 
یہ زوال اچانک نازل نہیں ہوا، بلکہ برسوں کی غفلت، ناقص پالیسیاں، ذاتی مفادات، معاشرتی بگاڑ اور ادارہ جاتی کمزوریوں نے مل کر اس کو جنم دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہماری ترجیحات میں تعلیم کبھی اولین نہ رہی۔ بجٹ میں سب سے کم حصہ تعلیم کے لیے رکھا گیا اور جب کبھی زیادہ رقم مختص ہوئی تو بدانتظامی اور کرپشن نے اس کے اثرات ختم کر دیے۔ ہم نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب تشکیل نہیں دیا بلکہ ایسے پرانے ڈھانچوں کو تھامے رکھا جو نہ معاشرے کی عملی ضرورتوں کو پورا کر سکتے تھے اور نہ ہی نوجوان نسل کو سوچنے، سوال کرنے اور تخلیق کرنے کی جرات دے سکتے تھے۔
تعلیمی زوال کی ایک بڑی وجہ والدین اور معاشرے کی بے حسی بھی بنی۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کو محض ڈگری تک محدود سمجھتے ہیں۔ مقصد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ کیا سیکھ رہا ہے بلکہ یہ کہ وہ نوکری کے لیے اہل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈگریاں بانٹنے والے ادارے وجود میں آئے اور تعلیمی معیار مسلسل گرتا گیا۔ معاشرہ خود تعلیم کی قدر کھو بیٹھا۔ آج کسی کے پاس پیسہ ہو تو وہ عزت دار سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ جاہل ہی کیوں نہ ہو، اور کسی کے پاس علم ہو مگر وسائل نہ ہوں تو وہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب معاشرے کی اقدار اس حد تک بدل جائیں تو پھر تعلیمی زوال ناگزیر ہو نا ہی تھا۔
نصابِ تعلیم میں بھی ہم نے کبھی حقیقت پسندانہ اصلاحات نہیں کیں۔ بچوں کو ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جن کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہم ابھی تک رٹے بازی پر قائم ہیں۔ امتحان کا مقصد علم کو جانچنا نہیں بلکہ نمبر حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ نقل، سفارش اور جعلی ڈگریوں نے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب محنت اور قابلیت کی بجائے شارٹ کٹ کو رواج دیا جائے تو پھر نوجوانوں میں سستی اور بے عملی پیدا ہونا لازمی ہے۔
تعلمی اداروں میں استاد کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے لیکن 
اساتذہ کا وہ کردار جو کبھی سب سے زیادہ معزز اور محترم سمجھا جاتا تھا، آج خود سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ استاد کو معاشرے کا معمار کہا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے بہت سے اساتذہ اپنے کردار کی بلندی کو بھول گئے ہیں۔۔ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ تعلق جو کبھی روحانی رشتے کی طرح ہوتا تھا، اب محض رسمی سا رہ گیا ہے۔ استاد نہ صرف علم کا ذریعہ ہوتا ہے بلکہ کردار کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔ جب یہ آئینہ گرد آلود ہو جائے تو شاگرد کی نگاہوں میں بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔
زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب جامعات اور دیگر اداروں سے جنسی ہراسانی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ بہاولپور یونیورسٹی کا واقعہ ہمارے تعلیمی نظام کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ ایک ایسی جگہ جو علم، عزت اور تحفظ کی علامت ہونی چاہیے تھی، وہاں طلبہ کو خوف اور بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کوئی تنہا واقعہ نہیں بلکہ ملک کی مختلف جامعات سے اسی نوعیت کی خبریں وقتاً فوقتاً آتی رہی ہیں۔ جب ایک استاد، جو اعتماد کا سب سے بڑا مرکز ہوتا ہے، اسی اعتماد کو توڑ دے تو پھر والدین کے لیے اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹی بھیجنا کتنا مشکل فیصلہ بن جاتا ہے۔ ایسے واقعات صرف متاثرہ طلبہ کو ہی نہیں بلکہ پورے تعلیمی ماحول کو مسموم کر دیتے ہیں۔
جامعات میں جنسی ہراسانی جیسے واقعات کے اثرات صرف متاثرہ افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے نظام کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ ایک طرف والدین اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے گھبرانے لگتے ہیں اور دوسری طرف لڑکوں کے ذہنوں میں بھی ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ اس طرح پورا سماج تعلیمی ادارے پر اعتماد کھو دیتا ہے۔ ایسے واقعات کے تدارک کے لیے سخت قوانین، شفاف انکوائری سسٹم اور فوری انصاف ناگزیر ہیں۔
اساتذہ کے اخلاقی کردار کا بگاڑ صرف ذاتی رویوں تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی ہے۔ جب ایک استاد طالب علم کے ساتھ جانبداری برتے، اسے اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نمبر دے، یا اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرے تو اس سے طلبہ کے ذہنوں میں ناانصافی کا احساس پروان چڑھتا ہے۔ یہ احساس پھر معاشرے میں بھی پھیلتا ہے اور ایک پوری نسل انصاف سے مایوس ہو جاتی ہے۔ایک پروفیسر نے مجھے کہا  میں خوبصورت لڑکی دیکھ کر کچھ  نمبر اضافی دے دیتا ہوں تاکہ اس کے حسن کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔یہ ہمارے ا?ج کے استاد کی سوچ ہے اور نمبر دینے کا اختیار ہے۔ہمارے اساتذہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ 
تعلیمی اداروں کا ماحول محض نصاب اور کتابوں سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ نظم و ضبط، اخلاقی قدریں، باہمی احترام اور تخلیقی فضا سے پروان چڑھتا ہے۔ آج ہمارے اداروں میں یہ سب کچھ ناپید ہے۔ کمرہ جماعت میں استاد وقت پر نہیں آتا، طالب علم سنجیدہ نہیں ہوتا، انتظامیہ مسائل حل کرنے کے بجائے دبانے میں مصروف رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں علم پروان کیسے چڑھ سکتا ہے؟
یہ سب کچھ کہنے کے بعد یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت جس نے تعلیم کو کبھی اولین ترجیح نہ دی؟ اساتذہ جنہوں نے اپنے کردار کی بلندی کو فراموش کر دیا؟ والدین اور طالب علم جنہوں نے تعلیم کو محض ایک کاغذ کا ٹکڑا  یا ڈگری کا حصول سمجھ لیا؟ یا پھر ہم سب ؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ قصور سب کا ہے اور جب تک سب اپنی ذمہ داری تسلیم نہیں کریں گے، کوئی اصلاح ممکن نہیں۔
والدین اور معاشرے کو  اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے کردار سازی اور شخصیت نکھارنے کا وسیلہ ماننا ہوگا۔ میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں تعلیم کی قدر و منزلت  کو اجاگر  کیا  جا سکے۔
اگر ہم سب مل کر یہ طے کر لیں کہ تعلیم کو سنوارنا ہی ہماری بقا ہے، تو کچھ بعید نہیں کہ یہی زوال ہمارا عروج بن جائے۔ ہمیں سمجھناہوگا کہ قومیں صرف جنگی فتوحات سے نہیں بلکہ علم سے عروج پاتی ہیں۔ آج بھی اگر ہم اپنے اداروں کو حقیقی تعلیمی مراکز بنا لیں، اساتذہ کو ان کے اصل مقام پر واپس لے آئیں، طلبہ کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کر دیں اور نصاب کو عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیں تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہیاگر ہم نے سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ قدم بڑھایا تو یہی تعلیمی ادارے پھر سے روشنی کے مینار بن سکتے ہیں۔