تہرا ن(آئی این پی )ایران میں ملک کی کرنسی ریال کی تاریخی سطح پر گراوٹ سے مہنگائی اور اقتصادی بدحالی کے خلاف ملک گیر مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ان مظاہروں نے ملک کے مرکزی بینک کے سربراہ محمد رضا فرزین کو استعفی دینے پر مجبور کر دیا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق فرزین نے مظاہرین کے تہران اور دیگر بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکلنے کے بعد عہدہ چھوڑا۔تہران کے وسطی علاقے سعدی اسٹریٹ اور مرکزی گرانڈ بازار کے قریب شوش علاقے میں تاجروں اور دکان داروں نے احتجاج کیا۔تاریخی طور پر یہ علاقے سیاسی تبدیلی کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ 1979 کی اسلامی انقلاب کے دوران بھی یہی بازار تبدیلی کی علامت رہے تھے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق مظاہرے اصفہان، شیراز اور مشہد میں بھی دیکھے گئے۔ بعض علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔یہ مظاہرے 2022 کے احتجاج کے بعد سب سے بڑے ہیں، جب 22 سالہ ماہسا جینا امینی کو حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں پولیس نے گرفتار کیا اور ان کی حراست میں موت ہو گئی تھی