بلوچستان کے ساحلی علاقے میں 6 سال بعد لینڈ سپاٹ کانظارہ

سپائوٹس کا قطر 50 میٹر ، ہواوں کی رفتار80کلومیٹرفی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے
کوئٹہ(آئی این پی )بلوچستان کے ساحلی علاقے میں عرصہ 6 سال بعد لینڈ اسپاٹ کا نظارہ کیا  گیا، لینڈ اور واٹر اسپاوٹس ہوا کے ستون نما بگولے ہوتے ہیں جو بیک وقت زمین اور سطح سمندر پر بادلوں میں پیوست دکھائی دیتے ہیں۔دونوں اقسام کے اسپاوٹس ہوا میں زیادہ نمی سطح سمندرکے زیادہ درجہ حرارت کے سبب تشکیل پاتے ہیں، اسپائوٹس اس کا قطرتقریبا 50 میٹر ہے جبکہ اردگرچلنے والی ہواوں کی رفتار80کلومیٹرفی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفرار کے مطابق   پاکستان میں داخل ہونے والے ویسٹرن ڈسٹربنس(مغربی ہوائوں کے سلسلے) کے زیر اثربارشوں سے قبل بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں ایک غیرمعمولی منظرلینڈ اسپائوٹ کی صورت میں دیکھاگیا جس میں زمین سے آسمان کی بلندی تک ایک بگولہ انسانی آنکھ کے مشاہدے کا حصہ بنا جو قرب وجوار کی آبادی کیلیے حیرت انگیز منظر تھا۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے منگل سے بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، یہ قدرتی سرگرمی