راولپنڈی:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے انسداد دہشتگردی عدالتوں کے انتظامی جج جسٹس ملک شہزاد کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے فیصل آباد اور راولپنڈی کی عدالتوں میں اپنے خلاف چلنے والے مقدمات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔
خط میں فواد چوہدری نے کہا کہ وہ اس وقت فیصل آباد اور راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود ججز مقدمات کا ٹرائل عوام یا میڈیا کو رسائی دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ وکلا کو بھی کمرہ عدالت تک رسائی میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے، جو عدالتی عمل میں شفافیت کو متاثر کرتا ہے۔فواد چوہدری نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مقدمے کی کارروائی سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ چارج فریمنگ اور درخواستوں کے فیصلوں میں مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے عدالتی عمل کی شفافیت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی بار درخواستیں دینے کے باوجود ٹرائل کورٹ اہم دستاویزات اور ثبوت فراہم نہیں کر رہی ہے، جو ملزم کے منصفانہ ٹرائل اور مؤثر قانونی دفاع کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ فواد چوہدری نے خط میں درخواست کی کہ راولپنڈی اور فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور دیگر اہم دستاویزات فراہم کی جائیں، تاکہ عدالتی عمل کی سالمیت اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف ملزم کے حق میں اہم ہیں بلکہ یہ عدالتی عمل کے لئے بھی بہت ضروری ہیں تاکہ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔