آمدِ رسول ﷺ: جشن سے سیرت تک

عبدالخالق چوہدری
ربیع الاول کا بابرکت مہینہ آتے ہی مسلمانانِ عالم کے دل محبتِ رسول ﷺ سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ مساجد، گھروں اور بازاروں میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، محافلِ میلاد سجتی ہیں، نعت خوانی ہوتی ہے اور گلیاں و بازار چراغاں سے روشن ہو جاتے ہیں۔ یہ سب عقیدت و محبت کے مظاہر ہیں، لیکن ایک اہم سوال ہمارے سامنے ضرور آتا ہے: کیا محبتِ رسول ﷺ صرف خوشی منانے اور آپ ﷺ کا ذکر کرنے تک محدود ہے یا اس کا اصل تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں؟
قرآن مجید ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔ سورۃ یونس کی آیت 58 میں ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے۔ سورۃالانبیاء کی آیت 107 میں آپ ? کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے جانے کا ذکر ہے۔ لہٰذا اس رحمت پر خوشی کا بہترین اظہار یہ ہے کہ ہم آپ ﷺکے پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔قرآن مجید بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نجات یاد دلاتا ہے۔ اس واقعے میں ہمارے لیے یہ سبق موجود ہے کہ اللہ کی نعمت ملنے پر صرف خوشی نہیں بلکہ شکر، اطاعت اور اصلاحِ عمل بھی ضروری ہے۔ یہی اصول آمدِ رسول ﷺ کے حوالے سے بھی ہمارے لیے رہنما ہونا چاہیے۔
اگر ہم ایک دن بڑی عقیدت سے میلاد کی محفل سجائیں، درود و سلام پڑھیں، نعتیں سنیں اور چراغاں کریں، لیکن اگلے ہی دن جھوٹ، ملاوٹ، دھوکا، بددیانتی، ناانصافی اور حقوق العباد کی پامالی میں مبتلا ہو جائیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا احتساب کرنا چاہیے۔ قرآن مجید نے محبتِ الٰہی کا معیار اتباعِ رسول ? قرار دیا ہے۔ سورۃآل عمران کی آیت 31 کا مفہوم ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو رسول اللہﷺ کی پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ گویا محبت کا سب سے مضبوط ثبوت عمل اور اتباع ہے۔سیرتِ مصطفیٰﷺ محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل راستہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے سچائی، امانت، عدل، مساوات، صبر، ایثار، رحم و شفقت، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں بحیثیت نبی، حاکم، شوہر، والد، پڑوسی، تاجر اور معاشرتی رہنما ہمارے لیے عملی رہنمائی موجود ہے۔
آج ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ اگر ہم عاشقانِ رسول ﷺ ہیں تو ہماری تجارت میں دیانت کیوں نہیں؟ لین دین میں سچائی کیوں نہیں؟ بازاروں میں ملاوٹ اور کم تولنے کی شکایات کیوں ہیں؟ جھوٹ، فریب، حسد، بغض، منافقت اور ریاکاری ہماری معاشرتی زندگی میں کیوں بڑھ رہی ہے؟ نعت پڑھنے والی زبان اگر جھوٹ بولے اور درود پڑھنے والے ہاتھ کسی کا حق ماریں تو ہمیں اپنے دعوائے محبت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔سیرتِ طیبہ ہمیں والدین کے احترام، اولاد کی اچھی تربیت، پڑوسیوں کے حقوق اور یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس دیتی ہے۔ یہ رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ صحیح بخاری میں پیاسے کتے کو پانی پلانے والی عورت کی مغفرت اور بلی کو بھوکا پیاسا رکھنے والی عورت کے انجام کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام بے زبان مخلوقات کے ساتھ بھی رحم و شفقت کی تعلیم دیتا ہے۔
حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کے اسلام لانے کا واقعہ بھی محبت اور غیرتِ ایمانی کی روشن مثال ہے۔ سیرتِ ابن ہشام کے معروف بیان کے مطابق ابو جہل نے صفا کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچائی۔ حضرت حمزہؓ کو جب اس واقعے کا علم ہوا تو وہ ابو جہل کے پاس گئے اور اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ ان کے اسلام سے مسلمانوں کو حوصلہ اور قوت ملی۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور اصحابِ صفہ کا واقعہ بھی ہمارے لیے عملی سبق رکھتا ہے۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ کا پیالہ آیا تو آپ ﷺنے حضرت ابو ہریرہؓ کو اصحابِ صفہ کو بلانے کا حکم دیا۔ دودھ بظاہر تھوڑا تھا، مگر آپ ﷺکے حکم پر سب نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ آخر میں حضرت ابو ہریرہؓ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی نوش فرمایا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرے کے بھوکے اور محتاج افراد کی خبرگیری سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا اہم تقاضا ہے۔
لہٰذا اگر ہم ربیع الاول میں محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو کسی غریب کے گھر کا چولہا روشن کریں، کسی یتیم کی کفالت کریں، بیمار کی عیادت کریں، ضرورت مند کی مدد کریں، کسی مقروض کا بوجھ ہلکا کریں، بھوکے کو کھانا کھلائیں اور بے زبان مخلوق کے لیے پانی کا انتظام کریں۔ یہ اعمال ہماری عقیدت کو کردار سے جوڑ سکتے ہیں۔اس ربیع الاول ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم جھوٹ سے بچیں گے، ملاوٹ نہیں کریں گے، کسی کا حق نہیں ماریں گے، والدین کی خدمت کریں گے، اولاد کی بہتر تربیت کریں گے، پڑوسیوں کا خیال رکھیں گے اور اپنے دلوں کو حسد، بغض، تکبر، ریاکاری اور فریب سے پاک کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہم گھروں اور گلیوں کو ضرور سجائیں، مگر اپنے کردار کو بھی سنواریں۔ محفل میں نعت پڑھنے کے ساتھ معاملات میں سچائی اختیار کریں۔ درود و سلام کے ساتھ حقوق العباد ادا کریں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جشنِ میلاد، محبتِ رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔آمدِ رسول ﷺ کی حقیقی خوشی یہ ہے کہ ہمارے اخلاق بہتر ہوں، تجارت میں دیانت آئے، گھروں میں محبت بڑھے، والدین کو عزت ملے، اولاد کی تربیت سنورے، غریب کو سہارا، یتیم کو شفقت، کمزور کو تحفظ اور معاشرے کو عدل و انصاف ملے۔آئیے اس ربیع الاول میں عہد کریں کہ ہم صرف میلاد منانے والے نہیں بلکہ سیرت اپنانے والے بنیں گے۔ کیونکہ اصل چراغاں گلیوں میں نہیں، دلوں میں ہونا چاہیے؛ اصل جشن ایک دن کا نہیں، کردار کی تبدیلی کا ہونا چاہیے۔ رسولِ رحمت ﷺ کی آمد کی سب سے خوبصورت خوشی یہی ہے کہ آپﷺ کی رحمت، محبت، سچائی، عدل اور شفقت کا پیغام ہمارے کردار سے ظاہر ہو اور ہمارے گھروں سے پورے معاشرے تک پہنچے۔یہی محبتِ رسول ﷺ ہے، یہی شکرِ نعمت ہے اور یہی سیرتِ مصطفیٰ ﷺکا عملی پیغام ہے۔بشکریہ سی سی پی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔