جگر پارہ رسول سیدہ بتول

ڈاکٹرخادم حسین خورشید الازھری

شہزادی کونین ملکہ فردوس بری مخدومہ کائنات حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا رسول مختار شفیع روز شمار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لاڈلی اور چہتی شہزادی ہیں۔ اپ کی ولادت باسعادت اعلان نبوت سے پانچ سال قبل  اور وصال مبارک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پردہ فرمانے کے چھ ماہ بعد ہے۔ مخدومہ کائنات سلام اللہ علیہا کو قدرت نے یہ شرف عنایت فرمایا اپ اعلان نبوت سے قبل بھی والد کریم سید الانبیاء￿  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں  تربیت مقدسہ کا شرف پایا اور اعلان نبوت کے بعد بھی اپ نے  اپنی تمام مقدس ہمشیرگان سے بڑھ کر شفقت پدری کیساتھ رفاقت و قربت کا اعزاز پایا۔۔۔۔قسام ازل نے مخدومہ کونین شہزادی رسول کو وھبی ( وہ فضیلت جس میں انسان کی اپنی کاوش کا دخل نہیں ہوتا بلکہ محض اللہ تعالی کے فضل سے ملتی ہے جیسے کسی کا کسی اعلی خاندان میں پیدا ہونا) اور کسبی(جس میں کسی انسان کی اپنی جدوجہد کا دخل بھی ہوتا ہے جیسے کسی انسان کا محنت کر کے کسی بلند منصب کو پانا)سمیت تمام فضیلتوں کا پیکر بنایا اپ کی ہر ایک نسبت افضل و اشرف، ارفع وعلی ہے تاجدار ختم نبوت کی لخت جگر ہونا تاجدار ولایت کی زوجہ مکرمہ ہونا اور جنتی جوانوں کے سردار حضرت سیدنا امام حسن اور امام حسین کی والدہ مکرمہ ہونے کا اعزاز تمام نسبتیں ایسے اعلی مقدس شرف ہیں  جن میں تاریخ اسلامی میں اپ منفرد اور نمایاں نظر اتی ہیں۔جگر پارہ رسول حضرت سیدہ زہرا بتول سلام اللہ علیہا کی اعلی  شخصیت کی تعمیر محسن انسانیت معلم کائنات سید العالمین اخرین امام الانبیاء￿  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تربیت کاملہ سے ہوئی اپ کی ذات اقدس ان تمام مقدس خوبیوں کا مجموعہ ہے جو اپ کی ذات اطہر و اقدس کا حسن ھیں۔ اپ طیبہ بھی ہیں اور طاہرہ بھی۔عابدہ بھی اور زاہدہ بھی۔ اپ صالحہ بھی ھیں اورساجدہ بھی ،اور راضیہ  بھی ھیں اورمرضیہ بھی، اپ ہادیہ مہدیہ اور ناصحہ ہونے کے ساتھ ساتھ عالیہ وعارفہ بھی ھیں۔ اپ  ذاکرہ حامدہ صابرہ ھونے کیساتھ  ساتھ یقینا امت مسلمہ کی  محسنہ بھی ہیں۔رسول مکرم،رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپ کی ذات اقدس کو تمام دنیا کی عورتوں سے افضل اور جنتی عورتوں کی سرداری کی بشارت عنایت فرمائی۔قران و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک عورت کو اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے اس کے لیے مخدومہ کائنات سیدہ فاطم? الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا اس کی بہترین اور اعلی مثال ہے اپ کی ذات اقدس سے محبت و عقیدت ایمان کی علامت اور ذریعہ نجات ہے ،مخدومہ کائنات سلام اللہ علیہا کی ذات گرامی کوئی تخیلاتی اور افسانوی شخصیت نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا پیکر اتم ھے اسی لیے حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحم? اللہ علیہ نے اپ کی ذات والا صفات کو ملت اسلامیہ کی تمام خواتین کے لیے اسوہ کامل قرار دیا مزرع تسلیم را حاصل بتول مادران را اسوہ کامل بتول..حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں پیارے اقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مبارک طریقہ یہ تھا کہ اپ جب سفر پر تشریف لے جاتے تو سب سے اخر میں سیدہ فاطم? الزہرا سے ملتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے اپنی لاڈلی شہزادی سیدہ فاطم? الزہرا سے ملاقات فرماتے (المستدرک للحاکم). مزید حضرت ابن عمر فرماتے ہیں ایک مرتبہ سفر سے واپسی پر اقائینامدار مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت سیدہ فاطم? الزہرا کے گھر تشریف لے گئے اور اپ نے اپنی شہزادی سے فرمایا! (ھکذاکونی فداک ابی وامی )اے فاطمہ اس طرح ہو جاؤ اپ پر میرے ماں باپ قربان ہو جائیں. حضور سید عالم علیہ السلام کا معاملہ کسی عام انسان کا معاملہ نہیں تھا کہ جو محض جذبات  وغیرہ  کے لیے کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیں بلکہ اپ کا ہر عمل رضائے الہی کی طلب کے لیے ہوتا اور  زبان اطہر سے ہمیشہ حق ہی صادر ہوتا، سوائے حق کے اپ کچھ نہ فرماتے تو اپ کا یہ سیدہ فاطمہ زہرا پاک سے فرمانا کہ اپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں یہ مخدومہ کائنات، جگر پارہ رسول ،سیدہ بتول کے سلام اللہ علیہا کے فضائل اور مناقب کا نقطہ ارتقا ہے ذرا محبتوں عنایتوں اور شفقتوں کا یہ انداز بھی ملاحظہ فرمائیں جسے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت فرماتی ہیں کہ میں نے بات کرنے اور کلام کرنے میں سیدہ فاطمہ سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا جب سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے والد کریم اقائے نامدار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس حاضر ہوتی تو اپ انہیں خوش امدید فرماتے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے ان کا ہاتھ تھامتے ان کی پیشانی چومتے اور انہیں اپنے پاس بٹھاتے( الشریعہ لاآجری باب ذکر اکرام النبی) حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے اور حضرت امام عالی مقام اپنے والد کریم حضرت مولائے مرتضی سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اس طرح میدان محشر میں جائیں گی کہ ان پر عزت و کرامت کا حلہ ہوگا جسے اب حیات سے بنایا گیا ہوگا (المستدرک للحاکم )یقینا محشر میں مخدومہ کائنات سیدہ کائنات کی عزت و کرامت میں یہ انفرادیت اپ ہی کی ذات کا حصہ ہے..مزید حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں، میں نے اپنے پیارے اقا و مولا سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ! جب قیامت کا دن ہوگا تو پردوں کے پیچھے سے ایک اواز لگانے والا اواز لگائے گا اے اہل محشر ! فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم میں اپنی نظریں جھکا لو یہاں تک کہ وہ گزر جائیں( المستدرک للحاکم ) کسی بھی انسان کی شخصیت پر اس کے والدین کی تربیت کے گہرے نقوش سبب ہو جاتے ہیں مخدومہ کائنات سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قسمت کے او جو کمال کی کو کوئی کیسے پہنچے جن کی تربیت سیدہ خدیج? الکبری ملکہ عرب سیدہ خدیج? الکبری رضی اللہ عنہ اور محسن انسانیت معلم کائنات اقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمائی ہو اپ کی تربیت کے وہ حسین پہلو ملاحظہ فرمائیں جو اج کے دور میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کے لیے انتہائی ضروری ہیں جس سے ہمارا معاشرہ بگڑنے کی بجائے سنور سکتا ہے اج کے دور کی بڑھتی ہوئی بے حیائی فحاشی و عریانی کا طوفان سوشل میڈیا بنت حوا کے عفت و پاکیزگی پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہوا خاندانوں کی تباہی اور عفت ماب بہنوں بیٹیوں ماؤں کے تقدس کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شہزادی رسول, سیدہ بتول سلام اللہ علیہا کے اسوہ کاملہ سے اپنی بہنوں، بیٹیوں، ماؤں کو اپ کی سیرت کا نور بخشیں۔چنانچہ مولائے کائنات حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں قیدی پیش کیے گئے تو حضرت مولاعلی نیسیدہ زہرا پاک سے فرمایا کہ اپ جا کر اپنے بابا جان سے ایک خادم طلب کریں تاکہ کام کاج میں آپکا بوجھ ہلکا ہو شام کو سیدہ کائنات بارگاہ مصطفوی میں حاضر ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بیٹا ! کیسے انا ہوا اپ نے عرض کی بس سلام کے لیے حاضر ہوئی تھی ابا جان۔۔ شرم و حیا کے سبب اور کچھ نہ عرض کیا جا سکا واپسی پر مولائے کائنات حیدر قرار نے پوچھا تو فرمایا شرم کی وجہ سے کچھ بھی عرض نہ کر پائی دوسری مرتبہ حضرت مولائے کائنات کے فرمانے پر پھر حاضر ہوئیں پھر ایسا ہی ہوا پھر حضرت علی المرتضی نے فرمایا چلو دوبارہ بارگاہ مصطفوی میں حاضر ہوتے ہیں اور اپنے اقا کریم سے غلام کے بارے میں عرض کرتے ہیں تاکہ گھریلو کام میں اسانی ہو دونوں بارگاہ نبوت و رسالت میں حاضر ہوئے لجپال کریم نے انے کا سبب پوچھا تو حضرت علی عرض کرتے ہیں گھر کا کام کاج بہت مشکل ہو گیا ہے ہماری خواہش ہے کہ اپ ہمیں ایک غلام عنایت فرما دیں اللہ کے محبوب نبی کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو وہ بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں کے ملنے سے بہتر ہو حضرت علی نے عرض کی اقا ضرور فرمائیے تو اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سونے کا ارادہ کرو تو سو بار تکبیر ،تسبیح اور تمہید (سبحان اللہ...الحمدللہ ..اللہ اکبر ) پڑھ لیا کرو تمہیں رات گزارنے پر بھی ہزار گنا ثواب ملے گا اور جب تم صبح جاگو گے تو پھر تمہیں ہزار گناہ ثواب ملے گا حضرت علی المرتضی فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کے یہ بتائے ہوئے کلمات کبھی نہیں چھوڑے صرف صفین کی رات بھول گئے اور وہ مجھے رات کے اخری پہر یاد ائے تو اس وقت میں نے پڑھ لیے(حلی? الاولیاء￿  از ابونعیم اصفہانی ) حضرت ابو ثعلبہ فرماتے ہیں رسول کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب کسی غزوہ سے واپس تشریف لاتے تو اپ کا پسندیدہ عمل یہ تھا کہ اپ واپسی پر سب سے پہلے دو رکعت نماز نفل ادا فرماتے پھر سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ ایک دفعہ اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سیدہ فاطم? الزہرا سے ملنے ان کے گھر گئے انہوں نے والہانہ طور پر اپ کا استقبال کیا اور اپ کا چہرہ اقدس اور انکھیں چومتے ھوئے رونے لگی اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا بیٹا کیوں رو رہی ہو؟ عرض کی ! راہ حق میں مشقتیں اٹھاتے اپ کا رنگ بدل گیا ہے اور اپ کے کپڑے بھی بوسیدہ ہو گئے ہیں تو حضور رحمت کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا فاطمہ!  روئیں نہیں اللہ تعالی نے تمہارے بابا کو ایک عظیم مقصد کے لیے مبعوث فرمایا ہے زمین پر کوئی پکا یا کچا گھر یا خیمہ باقی نہیں رہے گا مگر اس میں معزز کی عزت اور ذلیل کی ذلت کے ساتھ اللہ تعالی اپنے دین کو داخل فرما دے گا اور اللہ تعالی کا یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جھاں تک رات پہنچتی ہے (کنز العمال )اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حق پرچلنے اورقائم رھنیکی حسین انداز سے اس تلقین نے شہزادی رسول سیدہ بتول کو استقامت کا کتنا بڑا درس دیا ہوگا،حق کے لیے ڈٹ جانے مشکلات برداشت کرنے کا کس قدر حوصلہ پیدا ہوا ہوگا وہ صبر و استقامت کا کس قدر ہمالہ بن گئی ہوں گی پھر اپ ہی کی تربیت تھی کہ اپ نے اپنیلاڈلوں  کو بھی یھی  درس استقامت بخشا،کہ اپ کا لخت جگر نور نظر حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ امت کو جوڑنے کے لیے خلافت امارت کی قربانی دے کر عظیم خیر بانٹ گئے۔ اور اپ ہھی کاشاھزادے سیدنا امام حسین میدان کرب و بلا میں صبر و استقامت کا ایسا ابدی نمونہ پیش کرکے  قیامت تک انے والے لوگوں کے لیے مینارہ نور بن گئے۔ معلم کائنات رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ ایسی ہی پاکیزہ تربیت فرمائی اپنے خاندان پاک کی، اولاد پاک کی، تکلفات سے بچنے سادگی اپنانے ،شوہر کی خدمت گزاری، گھریلو کام کاج خود کرنے کی تلقین ارشاد فرماتے اور اپ کی تربیت میں ہمیشہ یہ چیزیں نمایاں نظر اتی ہیں دنیاوی نعمتوں کی حصول کی بجائے اخروی نعمتوں پر توجہات کو مرکوز کرنا دنیا کی طلب سے بچ کر اخرت کی خواہش کرنا یہ اپ کی زندگی کا حسین پاکیزہ عمل ہے چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی شہزادی سیدہ زہرا کو اس حالت میں دیکھا کہ اپ اونٹ کے بالوں سے بنی چادر اوڑھے ہوئے تھیں اور چکی پیس رہی تھی یہ منظر دیکھ کر حضور سید عالم علیہ السلام کی چشم ہائے مقدس اشکبار ہو گئیں اور اپ نے فرمایا!  اے فاطمہ رضی اللہ عنہ دنیا میں اسی پر گزارا کرو تاکہ جنت کی نعمتیں تمہارا مقدر ہو جائیں( کنز العمال )حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم کو تنگدستی نے ان گھیرا تو اپ نے سیدہ فاطمہ الزہرا سے فرمایا کاش !  اپ بارگاہ رسالت میں صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں حاضر ہوتی اور صورتحال عرض کرتی جب اپ بارگاہ مصطفی میں حاضر ہوئیں تو حضرت ام ایمن اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھیں تھی سیدہ فاطمہ الزہرا پاک نے دروازہ کھٹکھٹایا تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ دستک تو میری بیٹی فاطمہ کی معلوم ہوتی ہے خلاف معمول انے کا مقصد کیا ہے ؟  پھر اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ام ایمن سے فرمایا جا کر دروازہ کھولو حضرت ام ایمن نے دروازہ کھولا تو واقعی حضرت سیدہ زہرا پاک تھی عرض کرنے لگی  اج تو اپ خلاف معمول تشریف لائیں؟  پھر سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے ابا حضور کی دست بوسی کی اور عرض گزار ہوئی یا رسول اللہ وہ تو فرشتے ہیں جن کی غذا تہلیل، تسبیح اور تمہید ہے لیکن ہماری غذا کے متعلق فرمائیے کہ وہ کیا ہے اقائے دو جہاں سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے گھرانہ نبوی میں تو ایک مہینے سے اگ تک نہیں جلی البتہ کچھ بکریاں ہمیں ہدیہ کی گئی ہیں اگر تم چاہو تو تمہیں ان میں سے پانچ بکریاں عطا کر دوں اور اگر تم چاہو تو تمہیں وہ پانچ کلمات سکھا دوں جو جبرائیل امین نے مجھے بتائے ہیں مخدومہ کائنات شہزادی رسول سیدہ بتول عرض کرتی ہیں مجھے وہ پانچ کلمات ہی سکھا دیں حضور جو جناب جبرائیل امین نے اپ کو بتائے ہیں، اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم یوں کہو (یا اول الاولین ویا اخر الاخرین ویا راحم المساکین ویا ارحم الراحمین )اے سب سے اول اے سب سے اخر اے بے پناہ طاقت کے مالک اے مسکینوں پر رحم فرمانے والے اور اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے پروردگار. یہ کلمات سیکھ کر واپس تشریف لے ائیں جب تو حضرت علی المرتضی نے پوچھا کیا گزری تو اپ نے فرمایا گھر سے تو دنیا لینے گئی تھی لیکن ابا حضور کی قربت ،شفقت ،تعلیم و تربیت نے اخرت عنایت فرمائی  یہ سن کر مولائے کائنات حیدر قرار نے ارشاد فرمایا واہ سبحان اللہ، یہ اپ کی اور میری زندگی کا بہترین دن ہے۔ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ کے گھر تشریف لے گئے اپ کے ساتھ ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن مکتوم بھی تھے انہیں اتے دیکھ کر سیدہ کائنات اوٹ( پردہ )میں چلی گئیں جب وہ چلے گئے تو رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بیٹا وہ تو نابینا تھے ان سے چھپنے کی کیا ضرورت تھی اور سیدہ کائنات نے عرض کیا بابا جان وہ تو نابینا تھے میں تو بینا تھی .مراد یہ کہ بغیر کسی ضرورت کے کسی عورت کا کسی غیر محرم کو دیکھنا شرم و حیا کے تقاضوں کے منافی ہے ضرورت کے لیے تو مسلم خواتین بہت سے کام کاج کرتی تھیں اور میدان جنگ میں بھی جاتی تھیں لیکن بغیر ضرورت کے عورت کی عفت و عصمت اور شرم و حیا کا تقاضا یہی ہے کہ وہ غیر محرم مرد کے چہرے کو نہ دیکھے اسی لیے تو سیدہ زہرا پاک نے اس چیز کو ناپسند فرمایا تھا کہ جب اپ کا وصال ھو تو اپ کے کفن میں لپٹے ہوئے جسد اطہر پر بھی کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے اسی لیے اپ نے مشاورت کر کے تلقین فرمائی کہ اپ کے جنازے پر لکڑیاں کھڑی کر کے پردہ کیا جائے تاکہ کسی غیر محرم کی نظر اپ کے جنازے پر نہ پڑے۔یہی شرم و حیا سیدہ کائنات کی میراث ہے اور ملت اسلامیہ کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کا سرمایہ حیات ہے* حجاب و شرم و حیا زندگی ہے عورت کی جو یہ نہ ہو تو برابر ہے پھر جود و عدم۔ نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم۔وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل یہاں ہیں عائشہ و فاطمہ کے نقش قدم*۔۔مخدومہ کائنات سیدہ بتول نے فرمایا عورت کے لیے اس سے بہتر کوئی خوبی نہیں کہ وہ نہ تو کسی نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی کوئی نامحرم مرد اسے دیکھے اعلی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت محافظ عقیدہ ختم نبوت حضرت امام احمد رضا محدث بریلی کیا خوب فرماتے ہیں* جس کا انچل نہ دیکھا ماحو مہر نے اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام .اس بتول جگر پارہ مصطفی حجلہ ارہائے عفت پہ لاکھوں سلام. سیدہ زہرا طیبہ طاہرہ جان احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام*