لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہورہائیکورٹ نے بازیاب ہونے والی طالبہ کی شادی اور عمر کے تعین سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد شاہ کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 6اکتوبر کو رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے کراچی کے اغوا کیس پرسماعت کی ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران ودیگرپولیس افسر پیش ہوئے اورلڑکی کو بازیاب کرواکر عدالت پیش کردیا۔جسٹس علی ضیانے ڈی آئی جی آپریشنز کی کارکردگی پراظہار اطمینان کرتے کہاویلڈن ، شاباش ڈی آئی جی صاحب یہی پولیس کا اصل کام ہے اور لڑکی سے استفسار کیاکہ آپ اتنے روز کہاں غائب تھیں؟ لڑکی نے جواب دیا میں نے شادی کی ہے اور شوہر کے ساتھ تھی عدالت نے استفسار کیاکہ کس کلاس کی طالبہ ہو اورعمر کیا ہے ؟ لڑکی نے جواب دیا 9ویں کی طالبہ ہوں اور ساڑھے 17سال عمر ہے ۔لڑکی کے والد نے کہا یہ جھوٹ بول رہی ہے اسکی عمر15سال ہے اورنادرا کا ریکارڈ پیش کردیا۔عدالت نے پراسیکیوٹرجنرل کوتحقیقات کاحکم دیکر لڑکی کو ایک ہفتے تک دارالامان بھجوادیا اور مزید سماعت 6اکتوبر تک ملتوی کردی۔