موسمی تبدیلی اور فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث صحت کے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
معروف ماہرِ طب پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔پروفیسر جاوید اکرم نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ خاص طور پر بزرگ افراد اور بچوں کو فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اور پہلے سے بیماری میں مبتلا افراد کے لیے یہ آلودگی انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ باہر نکلتے وقت لازمی طور پر ماسک استعمال کریں اور آلودگی کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے زیادہ پانی پینے کا معمول اپنائیں۔مزید برآں، انہوں نے مشورہ دیا کہ بوڑھے اور بیمار افراد کو نمونیا سے بچاؤ کے لیے ویکسین ضرور لگوانی چاہیے تاکہ موسمی بیماریوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ کی شدت کے سبب فضا انتہائی مضر صحت ہو چکی ہے۔
فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور ملتان میں ایئر کوالٹی انڈیکس بہت بلند ہے، اور لاہور بدستور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 603 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دہلی دوسرے نمبر پر ہے، جس کا ایئر کوالٹی انڈیکس 445 تک پہنچ چکا ہے۔ فیصل آباد کا انڈیکس 833، گوجرانوالہ کا 764، اور ملتان کا 305 ہے۔محکمہ ماحولیات نے سموگ کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں پبلک مقامات اور اہم شاہراہوں پر ڈرائی سویپنگ پر پابندی، اور چونے سے صفائی کے عمل پر مکمل پابندی شامل ہے۔ یہ اقدامات شہری صحت کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔