6لاکھ سے زیادہ جعلی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، جن میں40 فیصدکراچی میں ہیں
آلودہ انجیکشن، ہسپتال فضلے کی فروخت اور غیر محفوظ دندان سازی کے آلات شامل ہیں
کراچی (آئی این پی) سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں ایچ آئی وی (ایڈز) کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں اور اب تک 3 ہزار 995 بچوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔وزیرِ صحت نے ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہونے والے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں حکام نے بتایا کہ سندھ میں 6 لاکھ سے زیادہ جعلی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، جن میں سے تقریبا 40 فیصد صرف کراچی میں ہیں۔حکام کے مطابق ایڈز کے پھیلنے کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ علاج کے طریقے، غیر قانونی کلینکس، ناقص بلڈ بینک، سرنجز اور ریزرز کا دوبارہ استعمال، آلودہ انجیکشن، ہسپتال کے فضلے کی فروخت اور غیر محفوظ دندان سازی کے آلات شامل ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے تمام ایس ایس پیز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ غیر قانونی طبی مراکز کو فورا بند کریں اور جعلی ڈاکٹروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں