فلپائن میں امریکی اور اسرائیلی افواج کے ایران پر حملوں کے باعث ایندھن کا بحران شدید ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں 300 سے زائد پیٹرول پمپ بند ہو چکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق فلپائن نیشنل پولیس کی نگرانی میں اب تک 365 فیول اسٹیشنز مکمل طور پر بند ہیں، جس سے عوام کو ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور شہری بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد فلپائن میں ایندھن کی قیمتیں دوگنی سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، جس نے عوامی زندگی اور ملکی معیشت دونوں پر دباؤ ڈال دیا ہے۔ شہری طویل قطاروں میں ایندھن کے لیے انتظار کر رہے ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی انتہائی محدود ہے۔
اس بحران کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔ آج صبح برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 116 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو فلپائن سمیت کئی ایشیائی اور عالمی ممالک میں ایندھن کی قلت مزید شدید ہو سکتی ہے، جس سے صنعتی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔