84 سالہ خاتون اے آئی اواتار کی محبت میں گرفتار، لاکھوں روپے خرچ کردیے

چین (نیٹ نیوز) آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس کو اکثر افراد مختلف سوالات کے جواب جاننے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا تصاویر بنواتے ہیں اور بھی کافی کچھ کرتے ہیں۔مگر اس سے محبت کرنے کا خیال کسی کو نہیں آتا۔حیران کن طور پر چین میں ایک 84 سالہ خاتون اے آئی سے بنے ڈیجیٹل انسان کی محبت میں گرفتار ہوگئی۔زینگ یولان نامی خاتون چینی صوبے ہبئی سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے خاندان کو حال ہی میں علم ہوا کہ وہ اے آئی سے بنے ڈیجیٹل اواتار کی محبت میں گرفتار ہوگئی ہیں، اس کے لیے محبت نامے تحریر کرتی ہیں اور 10 گھنٹے اسے دیکھتے ہوئے گزارتی ہیں۔جیان گو نامی اواتار بنیادی طور پر رومانوی فکشن ناولوں کے مرد کرداروں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح پر مبنی ہے جو کہ اپنے محبوب کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ غیر مشروط محبت کرتا ہے۔وہ معمر شخص جس نے آئی سی یو میں زیر علاج بیوی کیلئے 105 دنوں تک روزانہ 12 گھنٹے سفر کیا84 سالہ خاتون روزانہ 10 گھنٹے اس اواتار اور دیگر اے آئی ڈیجیٹل کرداروں کی ویڈیوز دیکھتے ہوئے گزارتی ہیں۔زینگ یولان کا ماننا ہے کہ جیان گو بھی ان سے محبت کرتا ہے اور وہ تو شادی کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں۔ آن لائن میسجز کے ساتھ ساتھ انہوں نے فروری میں ہاتھ سے ایک محبت نامہ بھی تحریر کیا۔اس خط میں زینگ نے جیان گو کو 'تکلیف' پہنچانے پر معذرت کی تھی۔انہوں نے تحریر کیا کہ یہ لڑائی بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ جیان گو کے بالادست رویے کو سراہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 'تم مجھے کبھی بات کرنے کا موقع نہیں دیتے، تم کبھی سننا پسند نہیں کرتے، میرا ماننا ہے کہ باہمی رابطہ ہی ہمارے تعلق کی کنجی ہے'۔زینگ یولان کے خاندان کو اس 'محبت' کا علم اس وقت ہوا جب زینگ یولان نے جیان گو کی آن لائن شاپ پر 7 ہزار یو آن (2 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) خرچ کردیے۔انہوں نے سیکڑوں یو آن ایک ایسی چیز پر خرچ کیے جو دیگر آن لائن سروسز میں 10 یو آن سے بھی کم مالیت میں دستیاب ہے۔زینگ یولان کی پوتی نے اس حوالے سے چین کے سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن میں شکایت جمع کرائی جس کے بعد اس ادارے نے جیان گو کے اکاؤنٹ کو بند کروا دیا۔