اسرائیل میں 2500 سال پرانی بچوں کی اجتماعی قبر دریافت

 قدیم ذخیرہ  ٹوٹے برتنوں سے بھرا ہوا تھا، وہیں بچوں کے درجنوں ڈھانچے بھی تھے
مقبوضہ بیت المقدس(آئی این پی )اسرائیل میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے یروشلم کے جنوب مغرب میں واقع قدیم شہر ازیکہ کے کھنڈرات میں ایک زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کی کھدائی کے دوران ایک ہولناک دریافت کی، یہ قدیم ذخیرہ جہاں ٹوٹے برتنوں اور مٹی سے بھرا ہوا تھا، وہیں اس میں بچوں کے درجنوں ڈھانچے بھی موجود تھے۔تحقیق کے مطابق یہ اجتماعی قبر قریبا 2500 سال قبل فارسی دور میں استعمال ہوتی رہی، جس میں زیادہ تر 2 سال سے کم عمر بچوں کی باقیات شامل ہیں، اس جگہ سے مجموعی طور پر 89 افراد کی باقیات ملی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت آثارِ قدیمہ کے ایک پرانے معمہ کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے، کیونکہ اس دور کی قبروں میں کم عمر بچوں کی عدم موجودگی ایک سوال تھا۔تحقیق کے مطابق یہ بچے کسی قتلِ عام یا وبا کا شکار نہیں لگتے بلکہ غالب امکان ہے کہ انہیں طویل عرصے تک قدرتی وجوہات سے مرنے کے بعد یہاں دفن کیا جاتا رہا