ٹرمپ کا ایران پر 9 نومبر کو دوبارہ حملوں کا امکان، وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی ٹیم سے مشاورت

ٹرمپ کا ایران پر 9 نومبر کو دوبارہ حملوں کا امکان، وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی ٹیم سے مشاورت

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی ہے، تاہم تاحال کسی نئے فوجی آپریشن کی منظوری یا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

امریکی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور جنگ دوبارہ شروع کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق ان اجلاسوں میں صدر ٹرمپ اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام نے ایران کے خلاف آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات اور کسی ممکنہ آپریشن سے متعلق حتمی فیصلے سامنے نہیں آئے۔فاکس نیوز کی رپورٹ میں 9 نومبر کو مشرقِ وسطیٰ میں نئے چاند کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چاندنی نہ ہونے کے باعث رات کے وقت قدرتی روشنی کم ہوگی، جسے بعض فوجی کارروائیوں کے لیے موزوں ماحولیاتی صورتِ حال سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس پہلو کو 9 نومبر کو کسی امریکی حملے کی حتمی تاریخ یا منصوبے کی تصدیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے جلد فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے مزید فوجی کارروائیوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا کہ اس حوالے سے جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق اسے واشنگٹن کی جانب سے تاحال کوئی نیا حکم موصول نہیں ہوا۔