واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایران سے ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو بریفنگ دی۔
امریکی میڈیا کے مطابق بریفنگ کے دوران ارکانِ کانگریس نے ایران کے جوہری ذخیرے اور ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے سے متعلق متعدد سوالات کیے۔مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایک ایسا حتمی معاہدہ کرنا ہے، جس کے تحت ایران کو اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مفاہمتی یادداشت اسی مقصد کے حصول کے لیے مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ جوہری مذاکرات میں شامل تکنیکی ٹیمیں آئندہ دورِ مذاکرات کے لیے قطر جائیں گی۔
امریکی حکام نے قانون سازوں کو یقین دہانی کرائی کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال میں بہتری آ رہی ہے، جبکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو اب تک کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی، خصوصاً امریکی ذرائع سے، نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے کے معاملے پر ایک ڈیموکریٹ رکن اور امریکی حکام کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد بریفنگ کا اختتام کر دیا گیا۔