جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ شریف میں بااثر افراد کے ظلم کی ایک لرزہ خیز مثال سامنے آ گئی، جہاں کھیت میں بکریاں چھوڑنے سے منع کرنے پر ایک شہری کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ بستی سوکڑ میں پیش آیا، جہاں عبداللطیف نامی شخص نے اپنی زمین اور فصل کو بچانے کے لیے بااثر افراد کو بکریاں کھیت میں چھوڑنے سے منع کیا۔ اس "جُرم" کی پاداش میں ملزمان نے مبینہ طور پر کلہاڑیوں سے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تونسہ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ مقتول کے بھائی عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ اُن کے بھائی کو دانستہ اور بے رحمی سے قتل کیا گیا، یہ کھلی بربریت ہے۔ "ہم صرف انصاف چاہتے ہیں، اپنی زمین بچانے کی قیمت میرے بھائی نے جان دے کر چکائی۔"
پولیس ترجمان کے مطابق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ "ملزمان کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی، متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔"یہ واقعہ ایک بار پھر دیہی علاقوں میں زمین کے تنازعات، طاقت کے غلط استعمال اور قانون کی عملداری کے چیلنجز کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک معمولی بات بھی جان لیوا بن سکتی ہے۔