51 فیصد بینک اکائونٹس میں 5 ہزار سے بھی کم بیلنس

 صرف 3 فیصد اکائونٹس میں 10 لاکھ سے زائد رقم،سٹیٹ بینک کی رپورٹ 
 کراچی (خصوصی رپورٹ)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا نے ملکی بینکنگ نظام کی ایک تشویشناک حقیقت آشکار کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کمرشل بینکوں میں کھولے گئے اکائونٹس کی ایک بڑی اکثریت میں معمولی رقوم جمع ہیں، جو مالیاتی شمولیت، بینکاری رسائی اور بچت کے کلچر پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 51 فیصد بینک اکائونٹس میں 5 ہزار روپے سے بھی کم رقم موجود ہے۔20 فیصد اکائونٹس میں 5 ہزار سے 50 ہزار روپے کے درمیان بیلنس ہے۔اسی طرح 26 فیصد اکائونٹس میں بیلنس 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے کے درمیان پایا گیا جب کہ صرف 3 فیصد کمرشل بینک اکائونٹس میں 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم موجود ہے۔اس غیر متوازن صورتحال پر معاشی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مالی شمولیت کے فروغ، عوامی بچت کی صلاحیت اور مالیاتی پالیسیوں کے مئوثر نفاذ کے لیے یہ اعداد و شمار ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ مالی تعلیم، بچت کے رجحان کو فروغ دینے اور چھوٹے اکائونٹ ہولڈرز کے لیے خصوصی اسکیموں پر توجہ دے ، تاکہ بینکاری نظام میں اعتماد، رسائی اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔