9 ہزار افراد کے بینک اکائونٹس میں 750 ارب موجود ہیں،‘ انکم ٹیکس زیرو چیئرمین ایف بی آر

 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز اپنی آمدن کم ظاہر کرتے ہیں، جس سے نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوتی ہے:  چیئرمین کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ  میں گوشواروں میں زائد ٹیکس کریڈٹ کا دعوی کرنیوالے شخص پرجرمانے کی تجویز منظور،ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کے جرمانے کاوقت 3 ماہ کرنے کی تجویز
اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی کی  قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے گوشواروں میں زائد ٹیکس کریڈٹ کا دعوی کرنے والے شخص پرجرمانے کی تجویزمنظور کرلی جبکہ  چیئرمین ایف بی آر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 9 ہزار افراد کے پاس بینک اکائونٹس میں 750 ارب روپے موجود ہیں،ایسے لوگوں نے انکم ٹیکس میں صفر ظاہر کیا، 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز اپنی آمدن کم ظاہر کرتے ہیں، جس سے نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکا م  نے بتایا کہ ایسے شخص پر غلط طور پرکلیم کیے گئے اضافی ٹیکس کریڈٹ کے برابر جرمانہ ہوگا۔حکام نے مقررہ تاریخ تک ریٹرن جمع کرانے والوں کو ایکٹوٹیکس پیئرزلسٹ میں شامل نہ کر نے کی تجویز دی۔ ایف بی آر حکام نے کہا کہ کمپنی کیلئے ریٹرن تاخیر پراے ٹی ایل میں شمولیت کاسرچارج  ایک لاکھ روپے مقرر کیا ہے، کمپنی کے لے  ریٹرن تاخیرپرسرچارج پہلے 25 ہزاررو پے تھا، ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لئے  سرچارج 10ہزار سے بڑھاکر 50 ہزار روپے کیاگیا ہے اور انفرادی ٹیکس دہندہ کیلئے   سرچارج ایک ہزارسے بڑھاکر 25 ہزار روپیکیا گیا ہے جب کہ  اے ٹی ایل سے خارج رہنے کی مدت کے دوران ٹیکس ریفنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔اس دوران کمیٹی اراکین نے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کے جرمانے کاوقت 3 ماہ کرنے کی تجویز دی۔کمیٹی اراکین نے کہا کہ کوئی بیماری، فوتگی کی وجہ سے گوشوارے جمع نہیں کراسکتا، اس کے لیے مسئلہ ہوگا، ٹیکس گوشوارے جمع نہ ہونے پر پہلے ہی جرمانہ عائد کرنا درست نہیں ہے۔اس موقع پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کی تجویز ہے، ایف بی آر کے نوٹس پر عمل نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔ ایف بی آر ممبر نے بتایا کہ پہلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز ہے جب کہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانہ 20 لاکھ روپے تک بڑھانے کی تجویز ہے۔