غزہ میں غذائی قلت کے باعث 66 بچے شہید ہوگئے

امریکا اور اسرائیل کی امدادی خوراک میں فلسطینیوں کو نشہ آور گولیوں کا سفوف دینے کا انکشاف
غزہ (آئی این پی ) غزہ میں غذائی قلت کے باعث 66 بچے شہید ہوگئے جبکہ غزہ ہیومینٹرین فائو نڈیشن کی طرف سے اہل غزہ میں تقسیم کی جانے والی خوراک بشمول آٹے کے نشہ آور ادویات ملا کر فلسطینیوں کو کھلا ئے جانے کاانکشاف ہوا ہے ۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق غزہ پر جاری اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی پابندیوں کے باعث حالیہ جنگ میں غذائی قلت کے باعث 66 بچے شہید ہوچکے ہیں۔غزہ پٹی میں فلسطینی حکام کے مطابق 66 معصوم بچے اسرائیل کی جانب سے جاری محاصرے، گزرگاہوں کی بندش اور خوراک کی قلت کے نتیجے میں بھوک اور غذائی قلت سے جان کی بازی ہارچکے ہیں جب کہ ہزاروں خطرات سے دوچار ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک غذائی قلت کی وجہ سے روزانہ تقریبا 112 بچے غزہ کے اسپتالوں میں علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے خوراک اور ادویات دستیاب نہیں، اسرائیلی حملوں کی وجہ سے پانی، صحت اور صفائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں صاف پانی کی فراہمی نہ ہونے سے بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، ہیپاٹائٹس اے اور ڈائریا کے کیسز بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں، ایندھن کی کمی سے علاج کے لیے ضروری خدمات بند ہونیکا خدشہ ہے۔ دوسری جانب العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے کیا ہے، تاہم ابھی یہ اندازہ نہیں ہے کہ نشہ آور ادویات کے علاوہ کوئی زہریلی ادویات یا کیمیکل بھی سفوف کی شکل میں آٹے میں شامل تو نہیں کیے جارہے ہیں، جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہوں؟۔