حکومت کایوٹرن :285 اشیاء پر دوبارہ ڈیوٹیز عائد کرنیکی منظوری دیدی

 پالیسی بورڈ نے ریگولیٹری ڈیوٹیز کی از سرِ نو تشکیل کی منظوری دی جس سے مجوزہ ریونیو خسارہ200ارب سے کم ہوکر174ارب تک آجائیگا
وزیراعظم کو سٹیئرنگ کمیٹی کے کچھ ارکان نے متنبہ کیاکہ اگر برآمدات میں متوقع اضافہ نہ ہوا تو زرِ مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچ سکتا ہے،ذرائع
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران تقریباً 285 درآمدی مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کے مکمل خاتمے یا کمی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے نئے سرے سے ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پانچ سالہ نئے ٹیرف پالیسی پلان کے تحت مقامی صنعتوں کے تحفظ میں52 فیصد کمی کا ہدف رکھتے ہوئے1984ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم یا کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب ان میں سے285پر دوبارہ نظرثانی کے بعد نئی ڈیوٹیز پیر کو نوٹیفائی کی جائیں گی۔ پالیسی بورڈ نے ریگولیٹری ڈیوٹیز کی از سرِ نو تشکیل کی منظوری دی جس سے مجوزہ ریونیو خسارہ200ارب روپے سے کم ہوکر174ارب روپے تک آجائیگا۔ پہلے مرحلے میں خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات پر ڈیوٹی کم کرنے کا منصوبہ تھا لیکن حکومت نے مقامی طور پر تیار ہونیوالی تیار شدہ اشیا ء پر بھی ڈیوٹیز کم کردی تھیں جس پر صنعتوں کو چینی مسابقت کے باعث نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو سٹیئرنگ کمیٹی کے کچھ ارکان نے متنبہ کیاکہ اگر برآمدات میں متوقع اضافہ نہ ہوا تو زرِ مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نظرثانی کے بعد پہلے سال کے دوران828کے بجائے970ٹیرف لائنز پر کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی جبکہ142اشیاء کو ان سلیبز میں منتقل کیا جائیگاجن پر20فیصد یا اس سے کم شرح لاگو ہے۔ اسی طرح602 اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں20فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا تھا، جو اب کم ہو کر538 لائنز تک محدود ہوگیا ہے،64لائنز پر اب کمی نہیں کی جائیگی۔وزیراعظم کے مشیر تجارت رانا احسان افضل کے مطابق پانچ سال میں اوسط ٹیرف شرح کو 20.2 فیصد سے کم کرکے9.7فیصد تک لانے کا ہدف برقرار ہے۔