سانحہ پشاور: حادثہ یا حکومتی غفلت؟

رخسانہ اسد
کافی عرصہ کے بعد آج پھر لکھنے کو دل کیا تو ہاتھ چلنے سے قاصر دماغ پچھلے کئی معصوم بچوں کی شہادتوں کے سانحہ میں جیسے غرق ہوگیا ہو خود کو جھنجھوڑا اور سوشل میڈیا ویب سائٹس اخبارات اور کچھ ٹی وی چینلز کے خبروں کو دیکھا چیزیں نو ٹ کر کے لکھنا شروع کیا گزشتہ روز پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا دل خراش سانحہ ہو یا لاہور میں پیش آنے والا ایسا ہی افسوس ناک واقعہ، یہ حادثات محض اتفاق قرار دے کر نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ یہ ہمارے نظامِ تعلیم، نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری محکموں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالیہ نشان ہیں۔ آخر کب تک ہمارے معصوم بچے غفلت، لاپروائی اور ناقص انتظامات کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کرتے رہیں گے؟والدین اپنے بچوں کو روشن مستقبل کی امید کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے بچے وہاں علم حاصل کریں گے، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی منزل کی طرف بڑھیں گے اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں گے۔ لیکن جب تعلیمی اداروں کی عمارتیں ہی بچوں کے لیے خطرہ بن جائیں تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں رہتا، بلکہ والدین کے اعتماد اور ریاستی ذمہ داریوں پر بھی ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا متعلقہ محکموں کی مانیٹرنگ ٹیمیں صرف کاغذی کارروائی، رجسٹریشن اور رسمی معائنے تک محدود ہیں، یا وہ عمارتوں کی مضبوطی، چھتوں کی حالت اور دیگر حفاظتی انتظامات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیتی ہیں؟ اگر معائنے باقاعدگی سے ہوتے ہیں تو ایسے سانحات کیوں پیش آتے ہیں، اور اگر غفلت برتی گئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کون کرے گا؟یہاں نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ تعلیم محض کاروبار نہیں، بلکہ ایک قومی فریضہ اور والدین کے اعتماد کی امانت ہے۔ اسکول مالکان کو چاہیے کہ عمارتوں کی حفاظت کو منافع پر ترجیح دیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ بچوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو عمارت کو محفوظ بنانے تک تعلیمی سرگرمیاں روک دینا ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر فنی معائنہ کرائیں، خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کریں اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اگر کسی افسر، اہلکار یا اسکول انتظامیہ کی غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تحقیقات محض فائلوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان کے نتائج اور اصلاحی اقدامات عوام کے سامنے لائے جائیں۔افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر کسی بڑے سانحے کے بعد مذمتی بیانات، تحقیقات کے اعلانات اور کارروائی کے وعدے تو کیے جاتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ ہمیں اس روایت کو بدلنا ہوگا۔ حادثے کے بعد ذمہ دار تلاش کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ حادثہ پیش آنے سے پہلے خطرے کو پہچانا اور اسے ختم کیا جائے۔پشاور ہو یا لاہور، سرکاری اسکول ہو یا نجی، بچوں کی جان کسی بھی مالی مفاد، انتظامی غفلت یا سرکاری کوتاہی سے زیادہ قیمتی ہے۔سکولوں کی چھتیں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہیں، ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ بننے کے لیے نہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے محض دعووں کے بجائے 
عملی اقدامات سے اپنی ذمہ داری ثابت کریں۔ کیونکہ ایک معصوم بچے کی جان کا ضیاع صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، پوری قوم کا نقصان ہے۔ قوم کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو سب سے پہلے ان جگہوں کو محفوظ بنانا ہوگا جہاں اس مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ بچوں کی حفاظت حادثے کے بعد ہونے والا اقدام نہیں، حادثے سے پہلے پوری کی جانے والی ذمہ داری ہے۔ میں اپنی اس تحریر میں کئی ایسے سوال چھوٹے جا رہی ہوں جن کے اگر جواب میں جائیں تو ہماری زندگیوں میں یقیناَ پھر سے مسکان لوٹ آئیگی۔