پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شوگر ملز مالکان کی فہرست پیش کردی گئی‘شوگر انڈسٹری کو صوبائی حکومتیں ریگولیٹ کرتی ہیں ‘ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت شوگر انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں:سیکرٹری صنعت و پیداوار
اس وقت چینی کی قیمت کیا ہے:چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی‘چینی کی اوسط قیمت فروخت فی کلو 173 روپے تک ہے: سیکرٹری نیشنل فوڈ
ملک میں چینی ہر جگہ 210 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے:ارکان پبلک اکائونٹس کمیٹی
صرف 42 شوگر ملز کی خاطر عوام کو ذلیل کیا جا رہا ہے ‘ ہم نے شوگر ملز مالکان کی فہرست مانگی تھی :چیئرمین‘ ہمارے پاس شوگر ملز کے نام ہیں مگر ان کے مالکان کے نہیں :سیکرٹری فوڈ‘ مالکان کے نام نہ آئے تو تحریک استحقاق لائیں گے :چیئرمین
اسلام آباد(آن لائن) چینی بحران کے معاملے پر پارلیمان کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شوگر ملز مالکان کی فہرست پیش کردی گئی،سب سے زیادہ شوگر ملز صدر مملکت آصف علی زرداری دوسرے نمبر پر جہانگیر ترین جبکہ تیسرے نمبر پر شریف فیملی ہے،اجلاس میں حکمرانوں کو شوگر مافیا کا حصہ قرار دینے پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیااور ان ارکان نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر عامر ڈوگر سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا،آڈیٹرجنرل نے انکشاف کیا شوگر ملز مالکان نے چینی بحران میں 300ارب روپے کمائے ہیں ۔ منگل کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری صنعت و پیداوار،سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکورٹی اور آڈیٹر جنرل سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار نے ملک میں چینی کے بحران کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا شوگر انڈسٹری کو صوبائی حکومتیں ریگولیٹ کرتی ہیں اور شوگر ایڈوائزری بورڈ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت شوگر انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایڈوائزری بورڈ چینی کے موجودہ اسٹاک اور ضروریات کا جائزہ لیتا ہے انہوں نے بتایا کہ کرشنگ سیزن 15 نومبر سے 15 مارچ تک ہوتا ہے اورچینی کے موجودہ اسٹاک اور متوقع پیداوار کا ڈیٹا صوبائی حکومتیں فراہم کرتی ہیں‘اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ اسوقت چینی کی قیمت کیا ہے جس پر سیکرٹری نیشنل فوڈ نے بتایا کہ اسوقت چینی کی اوسط قیمت فروخت فی کلو 173 روہے تک ہے اس موقع پر کمیٹی اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں چینی اسوقت ہر جگہ 210 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ صرف 42 شوگر ملز کی خاطر عوام کو ذلیل کیا جا رہا ہے انہوں نے استفسار کیا کہ ہم نے شوگر ملز مالکان کی فہرست مانگی تھی رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہاکہ ایک سابق شوگر کین کمشنر نے انکشاف کیا تھا کہ چینی کے نام پر 287 ارب کا عوام سے دھوکہ کیا گیا ہے اور اس کی حکومت نے تردید نہیں کی تاہم اس کمشنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ برآمد کی اجازت دی گئی تو چینی کی قیمت کیا تھا اور اب کیا ہے انہوں نے کہاکہ چینی مافیا ہی حکومت چلارہا ہے اور عوام کو پوچھنے والا کوئی نہیں‘ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ حکومت شوگر ملز مالکان کے نام فراہم کرنے سے گریزاںہم نے آپ سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کی تھیں انہوں نے کہاکہ کمیٹی کو شوگر ملزکی نہیں بلکہ ملز مالکان اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات دیں‘ چیئرمین کمیٹی نے شوگر ملز مالکان کے ناموں کی فہرست فوری طلب کر تے ہوئے کہاکہ اگر شوگر ملز مالکان کے نام نہ آئے تو تحریک استحقاق لائیں گے بعدازاں وزارت صنعت و پیداوار نے شوگر ملز مالکان کے ڈائریکٹرز کی فہرست پیش کر دی گئی جبکہ چینی برآمد اور درآمد کرنے والی شوگر ملز کی فہرست بھی پیش کردی گئی ‘ اس موقع پر آڈیٹر جنرل آف پا کستان نے کمیٹی کو بتایا کہ چینی کی قیمتوں میں حالیہ رد و بدل سے شوگر ملز مالکان نے تین سو ارب روپے کمائے ہیں جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ صرف 42 خاندانوں نے 3 سو ارب روپے کمائے ہیں