فیک نیوز پر تین سال قید، بیس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکیں گی،بل میں سوشل میڈیا کی نئی تعریف بھی شامل
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام (ترمیمی) بل 2025 (پیکا) کی توثیق کردی۔الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کا ترمیمی بل 2025 صدر کے دستخط کے بعد قانون بن گیا، اس سے قبل یہ بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی منظور کیا گیا تھا، پیکا ترمیمی بل کے خلاف صحافیوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے اہم نکات کے مطابق فیک نیوز پر تین سال قید، بیس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکیں گی۔ جرم پر اکسانا،جعلی یا جھوٹی رپورٹس، اسلام و پاکستان مخالف ،عدلیہ اور فوج کے خلاف مواد غیر قانونی شمار ہو گا۔ پابندی کی شکار شخصیات کے بیانات اپ لوڈ نہیں کیے جا سکیں گے۔ ترمیمی بل میں سوشل میڈیا کی نئی تعریف بھی شامل کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہوگی جسے سوشل میڈیا مواد ریگولیٹ کرنے ،شکایات پر مواد کو بلاک یا ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔اتھارٹی ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جزوی اور مکمل بلاک کرے گی، اتھارٹی کسی درخواست پر ایکشن لے گی، اتھارٹی خلاف ورزی پر جرمانہ کرے گی، متعلقہ حکام کو غیر قانونی اور توہین آمیز مواد کو 30 روز کے لیے بلاک کرنے یا ہٹانے کی ہدایت کرے گی، 30 دن مزید توسیع بھی ہو سکے گی۔جعلی یا غلط معلومات سے متاثرہ شخص معلومات کو بلاک کرنے یا ہٹانے کیلئے اتھارٹی کو درخواست دے گا، اتھارٹی 24 گھنٹے میں اس پر فیصلہ کرے گی، اتھارٹی میں چیئرمین اور 8 ارکان ہوں گے، اتھارٹی میں سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور پیمرا ارکان ہوں گے، چیئرمین اور ممبران کی تقرری 5 سال کے لیے ہوگی، عمر 58 سال سے زیادہ نہ ہو۔اتھارٹی میں پریس کلب کا رجسٹرڈ صحافی، سافٹ ویئر انجنیئر ، وکیل ، سوشل میڈیا پروفیشنل ، آئی ٹی پروفیشنل بطور ممبران ہوں گے، اتھارٹی کے فیصلے کثرت رائے سے ہوں گے، چیئرمین کے پاس غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے اور فوری ایکشن لینے کا خصوصی اختیار ہوگا، البتہ اتھارٹی اس کی 48 گھنٹے میں توثیق کرے گی۔اتھارٹی ایسے مواد کو بلاک کرے گی یا ہٹائے گی جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو، ایسا مواد بلاک کیا جائیگا جو عوام کو قانون کی خلاف ورزی کرنے ، قانون ہاتھ میں لینے پر اکسائے ، ایسا مواد بلاک کیا جائے گا جس کا مقصد عوام ، افراد، گروہ ، حکومتی آفیشل یا اداروں کو ڈرانا، دہشت زدہ کرنا یا مجبور کرنا ہو، ایسا مواد بلاک کیا جائے گا جو عوام کو سرکاری یا نجی پراپرٹی تباہ کرنے پر اکسائے، ایسا مواد بلاک کیا جائے گا جو ڈرا کر عوام کو ان کی قانونی تجارت کرنے سے روکے، شہری زندگی متاثر کرے۔ایسا مواد بھی بلاک کیا جائیگا جو مذہب، فرقے، نسل کے خلاف توہین یا نفرت پر اکسائے جس سے تشدد کو ہوا ملے، ایسا مواد بلاک کیا جائے گا جس میں نازیبا، عریاں مواد ہو، ایسا مواد بلاک ہوگا جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ جعلی اور غلط ہے، ایسا مواد بلاک کیا جائے گا جو ممبران عدلیہ، آرمڈ فورسز ، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے خلاف بہتان لگائے، ایسا مواد بلاک کیا جائے گا جو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرے یا ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف تشدد پر اکسائے۔سپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے حذف شدہ معلومات کو سوشل میڈیا پر نشر نہیں کیا جائے گا، کالعدم تنظمیوں اور ان کے نمائندوں کے بیانات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر نہیں کیے جائیں گے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شکایات کو دیکھنے شفاف اور مؤثر طریقہ کار اپنائیں گے، سوشل میڈیا کمپلینٹ کونسل بنائی جائے گی، اتھارٹی کی ہدایت پر عمل نہ ہونے یا خلاف ورزی پر اتھارٹی ٹریبونل سے رجوع کرے گی، سوشل میڈیا تحفظ ٹریبونل قائم کیے جائیں گے۔سوشل میڈیا تحفظ ٹریبونل میں ہائی کورٹ کی اہلیت کا جج چیئرمین ہوگا، ٹریبونل میں صحافی، سافٹ ویئر انجنیئر ہوں گے، اتھارٹی سے متاثرہ فریق، ٹریبونل سے رجوع کرسکتا ہے، ٹریبونل سے متاثرہ شخص 60 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔غلط یا جعلی معلومات دینے پر تین سال تک سزا، 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہوسکتے ہیں، جو شخص دانستہ طور پر غلط یا جعلی معلومات دے جس سے عوام میں خوف، انتشار، بے چینی پھیلے اسے سزا ہوگی۔تحقیقات، انکوائری، پراسیکیوشن کے لیے نیشنل سائبر کرائمز تحقیقاتی ایجنسی قائم کی جائے گی، نیشنل سائبر کرائمز تحقیقاتی ایجنسی کے قیام کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ ختم ہو جائے گا۔