اٹارنی جنرل آفس سے بات کی ہے کیسز جلد ختم کرائے جائیں تاکہ مفت بجلی بند کی جائے‘استعمال نہ ہونے والی بجلی سستی دینے پرغور کررہے ہیں
سولرائزیشن بڑھنے سے عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے،نیٹ میٹرنگ سے مہنگی بجلی خریدنے کے سبب عوام پر 103 ارب کا بوجھ پڑا:وفاقی وزیر
اسلام آباد(آئی این پی)وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاور ڈویژن اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں میں ہر ملازم 6 ہزار روپے کی مفت بجلی حاصل کررہا ہے، ہم نے اٹارنی جنرل آفس سے بات کی ہے کہ کیسز جلد ختم کرائیں جائیں تاکہ مفت بجلی بند کی جائے۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ کیسز کی وجہ سے پاور ڈویژن اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بجلی کی مفت فراہمی بند نہیں کرسکتے، مفت بجلی کا فی سرکاری ملازم کا خرچہ 6 ہزار روپے ہے، ہم نے اٹارنی جنرل آفس سے بات کی ہے کہ کیسز جلد ختم کرائیں جائیں تاکہ مفت بجلی بند کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مفت بجلی ختم کر کے تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے، جو بجلی استعمال نہیں ہورہی وہ سستے دام دینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جتنی سولرائزیشن بڑھے گی عام صارفین پر بوجھ بڑھے گا، نیٹ میٹرنگ کے ذریعے مہنگی بجلی خرید کر عام صارف کو دے رہے ہیں اور اس وقت عام صارفین پر 103 ارب کا اضافی بوجھ ہے۔اویس لغاری نے مزید کہا کہ ہم چاہ رہے ہیں نیٹ میٹرنگ میں سرمایہ کاری کرنے والا چار سال میں اپنا سرمایہ پورا کرلے۔دریں اثناء اویس لغاری نے سینیٹ موسمیاتی تغیرات کمیٹی کو بتایا ہے صنعتوں سمیت صارفین کوسستی بجلی کی فراہمی کیلئے تین سالہ پالیسی تیار کی ہے جو آئی ایم ایف سے منظوری کے بعدنافذ کی جائے گی،کمیٹی نے ملک میں ماحول دوست توانائی کے منصوبوں سمیت الیکٹرک وہیکل پالیسی پر اگلے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوںنے کہاکہ چین سے بھی ایک بڑی کمپنی آئی ہے جو کہ خوش آئند ہے انہوں نے کہاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی 2021میں بنی تھی مگر ابھی تک ملک میں صحیح طور پر نافذ العمل نہیں ہوسکی ہے اس موقع پر وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم الیکٹرک وہیکل کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی ہے جس کے چار میٹنگ ہوچکی ہیں اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعدکچھ سفارشات کی گئی ہیں