برطانیہ میں شدید برف باری کا امکان، محکمۂ موسمیات کی وارننگ جاری

برطانیہ میں شدید برف باری کا امکان، محکمۂ موسمیات کی وارننگ جاری

برطانیہ کے مختلف حصوں میں شدید برف باری اور سخت سردی کی پیشگوئی کے بعد محکمۂ موسمیات (میٹ آفس) نے وارننگ جاری کر دی ہے، جبکہ شمالی انگلینڈ کے بعض علاقوں میں کولڈ ہیلتھ ایمبر الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

میٹ آفس کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے بعض حصوں میں برف باری اور برفانی پھسلن کے باعث یلو وارننگ یکم جنوری کی صبح 6 بجے سے 2 جنوری کی رات 12 بجے تک نافذ رہے گی، جس دوران سفری نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح تک کئی علاقوں میں 2 سے 5 سینٹی میٹر برف پڑنے کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامی علاقوں میں یہ مقدار 10 سینٹی میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ 200 میٹر سے زائد بلندی والے علاقوں میں 10 سے 20 سینٹی میٹر اور پہاڑی راستوں پر 30 سینٹی میٹر یا اس سے زائد برف جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ادھر یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے شمال مشرقی اور شمال مغربی انگلینڈ کے لیے ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹ جاری کیا ہے جو 5 جنوری دوپہر 12 بجے تک نافذ رہے گا۔ ان علاقوں میں درجۂ حرارت 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کی توقع ہے۔ایجنسی کے مطابق ایمبر الرٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسم صحت اور سماجی نگہداشت کی خدمات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر 65 سال سے زائد عمر اور پہلے سے بیمار افراد میں اموات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ملک کے دیگر حصوں میں نئے سال کے دن درجۂ حرارت 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، جبکہ کئی علاقوں بشمول لندن، ایسٹ و ویسٹ مڈلینڈز، جنوب مشرقی، جنوب مغربی، مشرقی انگلینڈ، یارکشائر اور ہمبر میں یلو کولڈ ہیلتھ الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

میٹ آفس کے ماہر ڈین اسٹراؤڈ کے مطابق،
’’ہم نسبتاً پرسکون مگر سرد موسم سے نکل کر ایسے حالات کی طرف جا رہے ہیں جہاں برف باری اور شدید سردی کے خطرات بڑھ جائیں گے، خاص طور پر شمالی علاقوں میں۔‘‘

یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم کے اثرات نوجوان افراد پر بھی پڑ سکتے ہیں اور صحت کی سہولیات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسپتالوں اور کیئر ہومز میں درجۂ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہونے، سفری مشکلات کے باعث عملے کی کمی اور توانائی و ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر اثرات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر اگوسٹینو سوسا نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سرد موسم میں بزرگوں، بیمار اور کمزور افراد کا خاص خیال رکھیں کیونکہ کم درجۂ حرارت دل کے دورے، فالج اور سانس کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔